سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس میں صارفین اپنی تصاویر کو ’ریٹرو ساڑھی‘ انداز میں تبدیل کروانے کے لیے ’Google Gemini Nano Banana‘ نامی اے آئی ٹول استعمال کر رہے ہیں۔

یہ ٹول صارف کی اپلوڈ کی گئی تصویر کو روایتی بھارتی انداز میں ایک سیلفی میں بدل دیتا ہے، جسے خاص طور پر انسٹاگرام اور فیس بک پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟

واضح رہے کہ اس ٹرینڈ کو فالو کرنے کے لیے خواتین بڑی تعداد میں اس اے آئی ٹول کو استعمال کر رہی ہیں۔

پرائیویسی کے خدشات

اس فیچر کے ساتھ پرائیویسی سے متعلق سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صارفین کی تصاویر کو ماڈل کی تربیت یا کسی تیسرے فریق کو فراہم نہیں کرتا، تاہم کئی صارفین کے تجربات اور سیکیورٹی ماہرین کے انتباہات اس دعوے پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

پولیس کی وارننگ اور جعلی ایپس

بھارت کے شہر جالندھر میں پولیس نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اس ٹرینڈ کے ذریعے ان کی تصاویر کے ساتھ شناختی چوری، چہرے کی شناخت کے ذریعے دھوکہ دہی اور جعلی اے آئی ایپس کے ذریعے مالی نقصانات جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

 کئی جعلی ایپس ’بنانا اے آئی‘ کے نام پر صارفین سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایک صارف کا تجربہ اور خدشات

ان خدشات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ممبئی کی ایک خاتون بھاونانی نے اس ایپ کا تجربہ شیئر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جو تصویر انہوں نے اے آئی کو دی تھی، اس میں ان کے بازو پر موجود تل نظر نہیں آ رہا تھا۔ لیکن اے آئی سے بنائی گئی تصویر میں وہ تل واضح تھا جو ان کے جسم پر موجود ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر خوف و حیرت کا باعث بنا اور صارفین میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں اے آئی سسٹمز ان کی پرانی تصاویر یا کسی اور ذریعے سے پوشیدہ معلومات تک رسائی تو حاصل نہیں کر رہے؟

گوگل کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ نینو بنانا گوگل فوٹوز، جی میل یا کلاوڈ ڈرائیو جیسی سروسز سے معلومات حاصل نہیں کرتا اور تل کا دکھایا جانا محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی آرا اور احتیاطی تدابیر

تکنیکی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جب بھی صارفین اے آئی ایپس یا فیچرز استعمال کریں تو پہلے ان کی پرائیویسی پالیسی کا بغور جائزہ لیں اور ذاتی نوعیت کی تصاویر یا معلومات اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ آنے والے وقت میں ڈیپ فیکس، شناختی چوری اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ جیسے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستانی ماہر کی رائے

کراچی سے تعلق رکھنے والے اے آئی ایکسپرٹ میثم رضا نے اس حوالے سے کہا کہ ایسے اے آئی فیچرز میں صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

بظاہر یہ ٹولز تفریح کے لیے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان کی ٹریننگ ڈیٹا اور پروسیسنگ طریقہ کار مکمل طور پر صارفین کے علم میں نہیں ہوتا۔

اگر کوئی فیچر غیر متوقع طور پر درست یا پوشیدہ معلومات ظاہر کر دے تو یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ہمیں اپنی پرائیویسی کے بارے میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟

انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جعلی ایپس اصل برانڈ کے نام پر سامنے آتی ہیں، جو صارفین کا ذاتی ڈیٹا اور تصاویر ہتھیانے کے بعد انہیں بلیک میل یا شناختی چوری کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل فراڈ

صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی اے آئی ایپ یا فیچر کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی پرائیویسی پالیسی لازماً پڑھیں اور ذاتی نوعیت کی تصاویر یا حساس معلومات اپ لوڈ کرنے سے اجتناب کریں، بصورتِ دیگر مستقبل میں ڈیپ فیکس، بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل فراڈ جیسے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی بنانا بلیک میلنگ بنانا جمنائی ڈیجیٹل فراڈ ساڑھی فیچر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی بنانا بلیک میلنگ ڈیجیٹل فراڈ استعمال کر بلیک میلنگ کی تصاویر کے لیے اے آئی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف