انسٹاگرام پر وائرل ساڑھی فیچر: تفریح یا پرائیویسی کے لیے خطرہ؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس میں صارفین اپنی تصاویر کو ’ریٹرو ساڑھی‘ انداز میں تبدیل کروانے کے لیے ’Google Gemini Nano Banana‘ نامی اے آئی ٹول استعمال کر رہے ہیں۔
یہ ٹول صارف کی اپلوڈ کی گئی تصویر کو روایتی بھارتی انداز میں ایک سیلفی میں بدل دیتا ہے، جسے خاص طور پر انسٹاگرام اور فیس بک پر شیئر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟
واضح رہے کہ اس ٹرینڈ کو فالو کرنے کے لیے خواتین بڑی تعداد میں اس اے آئی ٹول کو استعمال کر رہی ہیں۔
پرائیویسی کے خدشات
اس فیچر کے ساتھ پرائیویسی سے متعلق سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صارفین کی تصاویر کو ماڈل کی تربیت یا کسی تیسرے فریق کو فراہم نہیں کرتا، تاہم کئی صارفین کے تجربات اور سیکیورٹی ماہرین کے انتباہات اس دعوے پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
پولیس کی وارننگ اور جعلی ایپس
بھارت کے شہر جالندھر میں پولیس نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اس ٹرینڈ کے ذریعے ان کی تصاویر کے ساتھ شناختی چوری، چہرے کی شناخت کے ذریعے دھوکہ دہی اور جعلی اے آئی ایپس کے ذریعے مالی نقصانات جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کئی جعلی ایپس ’بنانا اے آئی‘ کے نام پر صارفین سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایک صارف کا تجربہ اور خدشات
ان خدشات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ممبئی کی ایک خاتون بھاونانی نے اس ایپ کا تجربہ شیئر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جو تصویر انہوں نے اے آئی کو دی تھی، اس میں ان کے بازو پر موجود تل نظر نہیں آ رہا تھا۔ لیکن اے آئی سے بنائی گئی تصویر میں وہ تل واضح تھا جو ان کے جسم پر موجود ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر خوف و حیرت کا باعث بنا اور صارفین میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں اے آئی سسٹمز ان کی پرانی تصاویر یا کسی اور ذریعے سے پوشیدہ معلومات تک رسائی تو حاصل نہیں کر رہے؟
گوگل کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ نینو بنانا گوگل فوٹوز، جی میل یا کلاوڈ ڈرائیو جیسی سروسز سے معلومات حاصل نہیں کرتا اور تل کا دکھایا جانا محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی آرا اور احتیاطی تدابیر
تکنیکی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جب بھی صارفین اے آئی ایپس یا فیچرز استعمال کریں تو پہلے ان کی پرائیویسی پالیسی کا بغور جائزہ لیں اور ذاتی نوعیت کی تصاویر یا معلومات اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ آنے والے وقت میں ڈیپ فیکس، شناختی چوری اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ جیسے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستانی ماہر کی رائے
کراچی سے تعلق رکھنے والے اے آئی ایکسپرٹ میثم رضا نے اس حوالے سے کہا کہ ایسے اے آئی فیچرز میں صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
بظاہر یہ ٹولز تفریح کے لیے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان کی ٹریننگ ڈیٹا اور پروسیسنگ طریقہ کار مکمل طور پر صارفین کے علم میں نہیں ہوتا۔
اگر کوئی فیچر غیر متوقع طور پر درست یا پوشیدہ معلومات ظاہر کر دے تو یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ہمیں اپنی پرائیویسی کے بارے میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جعلی ایپس اصل برانڈ کے نام پر سامنے آتی ہیں، جو صارفین کا ذاتی ڈیٹا اور تصاویر ہتھیانے کے بعد انہیں بلیک میل یا شناختی چوری کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل فراڈ
صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی اے آئی ایپ یا فیچر کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی پرائیویسی پالیسی لازماً پڑھیں اور ذاتی نوعیت کی تصاویر یا حساس معلومات اپ لوڈ کرنے سے اجتناب کریں، بصورتِ دیگر مستقبل میں ڈیپ فیکس، بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل فراڈ جیسے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی بنانا بلیک میلنگ بنانا جمنائی ڈیجیٹل فراڈ ساڑھی فیچر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی بنانا بلیک میلنگ ڈیجیٹل فراڈ استعمال کر بلیک میلنگ کی تصاویر کے لیے اے آئی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔