اسلام آباد اور کوئٹہ میں نئے ایکسپو اور ڈسپلے سینٹرز کا قیام اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیرجام کمال خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 ستمبر2025ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کوئٹہ میں نئے ایکسپو اور ڈسپلے سینٹرز کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت کی توجہ اسلام آباد میں ایکسپو کم ڈسپلے سینٹر کے قیام اور کوئٹہ ایکسپو سینٹر کے لیے نئی زمین کی نشاندہی پر مرکوز ہے جو پاکستان کے وسیع تر منصوبے کے تحت جدید نمائش اور ڈسپلے کی سہولیات کا ملک گیر نیٹ ورک بنانے کے لیے ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزارت تجارت میں پاکستان ایکسپو سینٹر (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او کی جانب سے تفصیلی بریفنگ کے دوران کیا۔ بریفنگ میں تمام صوبوں میں چھوٹے پیمانے پر ایکسپو اور ڈسپلے سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا تاکہ مقامی صنعت کو مضبوط کیا جا سکے، برآمدات کو فروغ دیا جا سکے اور تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ پہلی ترجیح اسلام آباد میں ایکسپو کم ڈسپلے سینٹر کا قیام ہے جو وفاقی دارالحکومت میں عالمی معیار کی تجارت اور نمائش کا مقام فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس کمپلیکس کے اندر ممکنہ مقامات پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں بہت سی سہولیات پہلے سے موجود ہیں جس سے وقت اور لاگت دونوں کی بچت ہوگی۔ جام کمال نے کہا کہ دوسری کلیدی توجہ کوئٹہ ایکسپو سینٹر کے لیے نئی زمین کو محفوظ بنانا ہے جس کیلئے ایئرپورٹ کے قریب جگہ ترجیح ہے تاکہ غیر ملکی زائرین اور سرمایہ کاروں کے لیے آسان رسائی ہوسکے۔ ملاقات میں سی ای او نے بتایا کہ ابتدائی ڈیزائن اوپن بڈ ماڈل کے تحت تیار کیا جائے گا جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ، یا PC-1 منظوری کے عمل کے ذریعے فنڈنگ کی تصدیق ہونے کے بعد تعمیراتی کام آگے بڑھے گا۔چاروں صوبائی حکومتوں اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو چھوٹے پیمانے پر مناسب زمین کی نشاندہی کے لیے پہلے ہی خطوط بھیجے جا چکے ہیں۔ اس وقت سیالکوٹ اور فیصل آباد پہلے ہی سائٹس کی پیشکش کر چکے ہیں جبکہ سکھر، حیدرآباد اور کوئٹہ کی تجاویز زیر غور ہیں۔سی ای او نے کہا کہ منصوبہ ثانوی شہروں میں چھوٹے، کثیر مقصدی ہالوں کا تصور پیش کرتا ہے جو نمائشوں، کاروباری وفود اور صنعتی تقریبات کی میزبانی کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں لچکدار، ماڈیولر ڈیزائن متعارف کروانے کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقوں بشمول جرمن اور دیگر عالمی ایکسپو ماڈلز کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں پاکستان ایکسپو سینٹر (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے لیے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ گورننس، فیصلہ سازی اور پراجیکٹ پر عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں ایکسپو اور ڈسپلے سینٹرز کے قیام سے مقامی صنعت کو تقویت ملے گی، برآمدات کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے وزارت تجارت کی جانب سے مکمل پالیسی اور انتظامی تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مضبوط کیا جائے گا۔انہوں نے سیکرٹری انڈسٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اگلے ہفتے تک تمام صوبوں سے تفصیلی کلسٹرز اور ترجیحی علاقے فراہم کریں تاکہ وفاقی حکومت حتمی فیصلے کر سکے اور تعمیرات اور فنڈنگ کے مراحل میں تیزی سے آگے بڑھ سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایکسپو سینٹر جام کمال خان اسلام آباد اور کوئٹہ کیا جا کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں