احسن اقبال کا چینی صوبہ ہونان میں مختلف اداروں ‘کمپنیوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے چین کے صوبہ ہونان میں مختلف اداروں اور کمپنیوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی سڑکوں کی تعمیر سے خلا کی تسخیر کی طرف بڑھ رہی ہے اور سی پیک کے تحت دونوں ممالک خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے ہونان سیٹلائٹ اسپیس ٹیکنالوجی کا دورہ کیا اور کہا کہ چین کے تعاون سے پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں ایک نیا باب رقم کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی پاکستان کو قومی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہونان سیٹلائٹ اسپیس ٹیکنالوجی اور پاکستانی انجینئرز باہمی تعاون سے سیٹلائٹس تیار کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے سی آر آر سی ڑوڑو لوکوموٹیو کمپنی لمیٹڈ کا بھی دورہ کیا اور کمپنی کو ایم ایل-1 منصوبے کے لیے مسابقتی لاگت پر حصہ لینے کی دعوت دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے مستقبل کو جدید، مؤثر اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوکوموٹیو پلانٹ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ریلوے تعاون سے روابط میں انقلاب آئے گا، اخراجات کم ہوں گے اور پاکستان کی ترقی کو توانائی ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور چین مل کر جدید ریلوے کا مستقبل آگے بڑھا رہے ہیں۔وزیر منصوبہ بندی نے اپنے دورے کے دوران ذوزھو ٹائمز نیو میٹیریل ٹیکنالوجی کمپنی کا بھی دورہ کیا اور بیس ممالک کے مندوبین کے وفد کی قیادت کی۔ وفد کو کمپنی کی جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جدید مٹیریل سائنس صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کے لئے ناگزیر ہے اور سی پیک فیز ٹو کے تناظر میں نئی ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین سائنسی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں جبکہ صنعتی جدت معیشت کو عالمی مسابقت کے قابل بناتی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان چینی ٹیکنالوجی سے سیکھ کر اپنی صنعت اور معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر سکتا ہے اور چین کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہ پاکستان نے کہا کہ دورہ کیا انہوں نے رہے ہیں
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔