امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار، وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار، وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
وزیراعظم نے نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں معیشت، انسداددہشت گردی، معدنیات، اے آئی، آئی ٹی اور کرپٹوپربات ہوئی اور امریکا تجارت، آئی ٹی و دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے ٹیرف کےمعاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا مناسب تعین ہوگا، پاک امریکا تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 6 تا 10 مئی چار روز میں پاکستانی افواج نے بہادری سے ہندوستان کو جنگ میں شکست دی، اللہ نے افواج پاکستان کو جو نصرت عطافرمائی اسکا جتنا شکریہ اداکریں وہ کم ہے۔
وزیراعظم نے نیو جرسی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئےکہا کہ فیلڈمارشل عاصم منیر نے جنگ میں دانشمندی سے افواج پاکستان کو لیڈکیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ہم نے جنگ جیت لی، انکے 7 طیارے گرا دییے، ہر جگہ حملے کیے، ان کا دماغ چکرا گیا، اب اس سے آگے نہیں جانا اور جنگ بندی قبول کرلی۔
وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو کے دوران دورہ سعودی عرب کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ وہ سعودی عرب گئے اور وہاں انکا شاندار استقبال کیا گیا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 40 سال میں اس طرح کا استقبال نہیں دیکھا۔
وزیراعظم نے ملک کی معیشت میں بہتری پر بھی گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ ملکی حالات چند سال پہلے مشکلات کا شکار تھے، جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھی معاشی چیلنجز تھے، مہنگائی 32 فیصد تھی لیکن اب مہنگائی ڈیڑھ سال میں کم ہوکرسنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ جب اقتدار سنبھالا تو پالیسی ریٹ ساڑھے 22 فیصد تھا، آج 11فیصد پر ہے۔
وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو عظیم پاکستانی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے، ملک کی اس وقت معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعظم کی ہدایت پر ایف بی آرکا ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے اہم اقدام وزیر اعظم کی ہدایت پر ایف بی آرکا ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے اہم اقدام پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کو کتنے ارب کا پیکج دے گی؟پلان تیار یمن کی بندگارہ کے قریب بحری جہاز پر ڈون حملہ، 27 پاکستانیوں کی موجودگی کی اطلاع ایشیا ء کپ میں شاندار کم بیک: عرفان پٹھان بھی پاکستانی ٹیم کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے اسرائیل 48 گھنٹے میں صمود فلوٹیلا پر بڑا حملہ کر سکتا ہے، گریٹا تھنبرگ کا ویڈیو پیغام صدر مملکت کا حالیہ دورہ چین، جدید لڑاکا جے 35 بارے بریفنگ لی: سلیم مانڈوی والاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔