اقوام متحدہ اجلاس؛ وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی خاتون سے متعلق دفتر خارجہ کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ اجلاس؛ وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی خاتون سے متعلق دفتر خارجہ کی وضاحت WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی خاتون سے متعلق دفتر خارجہ کی جانب سے باضابطہ وضاحت جاری کردی گئی۔
وزارتِ خارجہ نے حالیہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون سے متعلق سوالات کا نوٹس لے لیا اور اپنے بیان میں بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کا باضابطہ اجازت نامہ نہیں تھا ۔ خاتون کا نام پاکستان کے وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق جس شخصیت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہ پاکستان کے وفد کے لیے 80ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (یو این جی اے) اجلاس کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ وہ شخصیت پاکستانی وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھیں اور ان کی وزیرِ دفاع کے پیچھے نشست نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔
وزیر دفاع کی وضاحت
قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل میں یہ تقریر وزیر اعظم کیونکہ مصروف تھے، اس لیے ان کی جگہ یہ تقریر میں نے کی۔ یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔ ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے۔ غزہ پر میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل اور صہیونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ خاتون کون ہیں، وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی جانب سے جواب دوں۔ میرے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کا حصہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخالصتان ریفرنڈم کا اعلان: سکھ رہنماؤں نے بھارت کو للکار دیا خالصتان ریفرنڈم کا اعلان: سکھ رہنماؤں نے بھارت کو للکار دیا سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیاں دوبارہ لاگو، چین اور روس کی قرارداد ناکام کراچی: ڈی جی رینجرز سندھ کا جامعۃ الرشید احسن آباد کا دورہ حکومت کی آئی ایم ایف کو گردشی قرض 6 سال کے مقررہ ہدف سے پہلے ہی ختم کرنےکی یقین دہانی جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان نے ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کردی امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار، وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیدیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خاتون سے متعلق دفتر خارجہ کی اقوام متحدہ کہا کہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔