خواجہ آصف کا سلامتی کونسل میں پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سلامتی کونسل میں پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کی وضاحت آگئی۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی مصروفیت کے باعث ان کی جگہ سلامتی کونسل میں تقریر کی، میرے پیچھے بیٹھی خاتون کون،وفد میں کیوں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی؟ سب سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے،میرا جواب دینا مناسب نہیں۔ میرے پیچھے کسی نے بیٹھنا ہے؟ یہ صوابدید اور اختیار دفتر خارجہ کا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہا کہ فلسطین کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے، ابوظبی میں ملازمت کے دوران دوست بنے فلسطینیوں سے آج بھی رابطہ ہے، غزہ پر میرے خیالات واضح ہیں جن کا برملا اظہار بھی کرتا ہوں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل اور صیہونیت کے بارے میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں، میرا ٹویٹر اکاؤنٹ شاہد ہے کہ فلسطین کے ساتھ رشتہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔