اقوام متحدہ کے اجلاس میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کے بارے میں دفتر خارجہ کا باضابطہ جواب آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر رکھاہے تاہم اب اس پر خواجہ آصف کے بعد دفتر خارجہ کا رد عمل بھی سامنے آ گیاہے جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ خارجہ نے حالیہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون سے متعلق سوالات کا نوٹس لے لیا اور اپنے بیان میں بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کا باضابطہ اجازت نامہ نہیں تھا ۔ خاتون کا نام پاکستان کے وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ترجمان نے واضح کیا کہ وہ شخصیت پاکستانی وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھیں اور ان کی وزیرِ دفاع کے پیچھے نشست نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔
ایف بی آر فیلڈ دفاتر آج اور کل کھلے رہیں گے
The Ministry of Foreign Affairs has noted queries regarding the seating of a certain individual behind the Defence Minister at a recent meeting of the UNSC.
اجمل جامی
دوسری جانب سینئر صحافی اجمل جامی نے انکشاف کیاہے کہ ڈاکٹر شمع جونیجو سے میری گفتگو ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں سرکاری طور پر وفد کا حصہ ہوں، انکے مطابق وزیراعظم نے انہیں تقریر لکھنے کی ذمہ داری دی ہے ۔ ڈاکٹر شمع جونیجو کے بقول اپریل 2025 سے وزیراعظم نے خود انہیں تقریر لکھنے والی ٹیم میں نامزد کیا ہے، یہ سب آفیشل ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ویزہ کیلئے کیا لازمی قراردیدیا گیا ؟ جانیے
ڈاکٹر شمع جونیجو سے میری گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں سرکاری طور پر وفد کا حصہ ہوں۔ انکے مطابق وزیراعظم نے انہیں اسپیچ رائٹنگ assign کی ہے۔ ڈاکٹر شمع جونیجو کے بقول اپریل 2025 سے وزیراعظم نے خود انہیں تقریر لکھنے والی ٹیم میں نامزد کیا ہے۔ یہ سب اۤفیشل ہے: اجمل جامی@ajmaljami pic.twitter.com/Tp9FTRtCD3
— Kismat Khan (@KismatZimri) September 26, 2025
وزیر دفاع کی وضاحت
قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل میں یہ تقریر وزیر اعظم کیونکہ مصروف تھے، اس لیے ان کی جگہ یہ تقریر میں نے کی۔ یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔ ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے۔ غزہ پر میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔
وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے
خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل اور صہیونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ خاتون کون ہیں، وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی جانب سے جواب دوں۔ میرے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کا حصہ ہے۔
سلامتی کونسل میں یہ تقریر وزیر اعظم کیونکہ مصروف تھے اسلئے انکی جگہ یہ تقریر میں نے کی۔ یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ھے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ھے۰ فلسطین کے مسئلہ کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ھے۔ ابو ظہبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی… pic.twitter.com/FkyCHz4fYY
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 26, 2025
فلم سینسر شپ کا قانون نیٹ فلکس اور ایمازون پر لاگو نہیں ہوتا: لاہور ہائیکورٹ
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شمع جونیجو انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ وزیر دفاع یہ تقریر کے ساتھ
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔