data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا میں جہاں ایک طرف کئی علاقے خشک سالی اور پانی کی کمی کا شکار ہیں، وہیں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں بارش کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست میگھالیہ انہی میں سے ایک ہے، جسے کرۂ ارض کا سب سے زیادہ بارش والا (گیلا) خطہ قرار دیا جاتا ہے۔

میگھالیہ میں 2 مقامات عالمی ریکارڈز کی بدولت نمایاں ہیں۔ پہلا اور سب سے مشہور موسین رام (Mawsynram) ہے، جو دنیا کا سب سے زیادہ بارش والا گاؤں مانا جاتا ہے۔ یہاں اوسط سالانہ بارش تقریباً 11,800 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو تقریباً 12 میٹر کے برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر بارش کا پانی جمع کرلیا جائے تو پورا گاؤں پانی کے نیچے سمجھا جا سکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر چیررا پُنجی (Cherrapunji) آتا ہے، جو ایک زمانے تک دنیا کا سب سے گیلا مقام کہلاتا تھا۔ یہاں اوسط سالانہ بارش تقریباً 11,000 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگرچہ اب یہ موسین رام سے پیچھے ہے، لیکن آج بھی اپنی زبردست بارشوں اور سرسبز مناظر کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

یہاں اتنی زیادہ بارش ہونے کی بڑی وجہ جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ خلیجِ بنگال سے اٹھنے والے مونسون کے بادل جب خاسی اور جینتیا پہاڑی سلسلے سے ٹکراتے ہیں تو بارش کی جھڑیاں ایک طوفانی سلسلے کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میگھالیہ کے یہ مقامات دنیا بھر میں موسمیاتی ماہرین کے لیے ریسرچ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ان مسلسل بارشوں کے باعث یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور ہریالی ہر سمت دکھائی دیتی ہے۔ البتہ مقامی افراد کے لیے مسلسل بارش ایک بڑی آزمائش بھی ہے کیونکہ روزمرہ زندگی اکثر متاثر ہوتی رہتی ہے۔

یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ موسین رام اور چیررا پُنجی صرف سیاحتی کشش ہی نہیں رکھتے بلکہ یہ دنیا کے بدلتے ہوئے موسموں کی ایک منفرد مثال بھی ہیں، جو انسان کو فطرت کی طاقت اور تنوع کی یاد دلاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار