زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو سب کچھ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ سنہ 2020 کے بدقسمت طیارہ حادثے کے وقت پیش آیا تھا جس میں معجزانہ طور پر صرف 2 افراد زندہ بچے تھے جن میں سے ایک وہ خود تھے اور جہاز میں ان کی نشست تھی سیٹ 1C جو اب ان کی کتاب کا بھی نام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی اور احمد آباد طیارہ حادثے میں کیا چیزیں ایک جیسی تھیں؟ ظفر مسعود نے بتادیا

وی نیوز ایکسکلیوسیو میں اینکرپرسن عمار مسعود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب کا نام سیٹ 1C اس لیے رکھا گیا کہ جب وہ طیارے میں سوار ہوئے تو یہی ان کی نشست تھی۔

ظفر مسعود او جی ڈی سی ایل کے چیئرمین رہنے کے علاوہ کئی دیگر اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ اس سانحے کے بعد جو کچھ ان پر گزرا وہ سب انہوں نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کے بینکنگ شعبہ میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے سی ای اوز کون ہیں؟

’سیٹ 1C ان کے لیے زندگی اور موت کے درمیان لکھی جانے والی کہانی کی علامت بن گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب جہاز زمین کی طرف آیا تو ایک لمحے کو یقین ہو گیا کہ اب سب ختم ہے اور زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں لیکن قدرت نے کرشمہ دکھایا اور آنکھ کھلی تو وہ اسپتال میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لمحہ گویا ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس حادثے نے ان کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتاب لکھنا آسان نہیں تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی کمزوریاں چھپاتے ہیں لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ سچائی کو نہیں چھپائیں گے اور اگر اپنی غلطیاں و کمزوریاں نہ لکھتے تو یہ کتاب محض رسمی رہ جاتی۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ حقیقت جانیں۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی تکبر میں مبتلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں اور ہمیں کسی سے مدد کی ضرورت نہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سچائی سے کتراتے ہیں اور اعتراف نہیں کرتے اور یہی رویہ ہمارے اداروں اور نظام کو کمزور کرتا ہے۔

ظفر مسعود نے بہادری کی ایک نئی تعریف پیش کی۔ ان کے نزدیک بہادری یہ نہیں کہ کوئی جنگ لڑے یا بڑے کارنامے سرانجام دے بلکہ اصل بہادری یہ ہے کہ انسان روایت کے خلاف کھڑا ہو۔

مزید پڑھیں: سیٹ تبدیل نہ کرتا تو آج زندہ نہ ہوتا طیارہ حادثہ میں بچ جانے والا خوش قسمت مسافر

وہ کہتے ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل کو تسلیم کرنا اور ان کے علاج کے لیے مدد لینا بہادری ہے۔ ان کے نزدی جھوٹ نہ بولنا اور اپنی کمزوریوں کو مان لینا بھی بہادری ہے۔

کتاب کا پیغام: عاجزی، سچائی اور انسانیت

ظفر مسعود نے کہا کہ اس کتاب کا اصل پیغام یہ ہے کہ زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں عاجزی اور سچائی کے ساتھ جینا چاہیے اور یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم سب انسان ہیں، کمزور ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آخری پیغام میں کیا لکھا تھا؟ طیارہ حادثے سے بچنے کے بعد عدنان صدیقی نے بتادیا

ظفر مسعود نے اس لمحے کی شدت، اس کے بعد کی جنگ، معاشرتی رویوں اور اندرونی کرب کو اپنی کتاب Seat 1C میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک حادثے کی روداد نہیں بلکہ زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کا سبق بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود طیارہ حادثہ ظفر مسعود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: طیارہ حادثہ انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے کتاب کا کے لیے ہیں کہ کے بعد

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر