Jasarat News:
2026-06-03@05:32:02 GMT

ماتلی،بارش نے سابق بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں کا پول کھول دیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

250926-5-11

 

ماتلی (نمائندہ جسارت)حالیہ بارشوں نے ماتلی میں سابقہ بلدیاتی دور کے مبینہ ترقیاتی منصوبوں کا پول کھول دیا ہے۔ اس دور میں پونے دو ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، جس میں شہر کی مرکزی شاہراہوں کی مرمت اور سولر لائٹ پولز کی تنصیب جیسے منصوبے شامل تھے، لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود یہ سب کاغذوں اور فائلوں تک محدود رہے۔بارش کے بعد شہر کی تینوں اہم سڑکیں مکمل طور پر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ مرکزی شاہراہ حیدرآباد،بدین روڈ، دوسری بڑی ٹنڈو غلام روڈ اور تیسری اہم فلکارا روڈ، جہاں بیوروکریسی، سرکاری افسران اور بااثر سیاسی رہنماؤں کے بنگلے موجود ہیں، سب جگہ جگہ کھڈوں اور پانی کے تالابوں سے بھری پڑی ہیں۔ فلکارا روڈ کو ماتلی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، جو شہر کو مضافاتی علاقوں سے جوڑتی ہے اور روزانہ ہزاروں افراد کی آمدو رفت اسی راستے سے ہوتی ہے، مگر اب اس کی حالت عوام کیلیے عذاب بن گئی ہے۔شہر کا سب سے پوش اور مہنگا علاقہ نظامانی محلہ جسے ماتلی کا “دل” بھی کہا جاتا ہے، وہاں بھی سابقہ ترقیاتی دور کے نام پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ اس علاقے کو “لکڑری ایریا” تصور کیا جاتا ہے جہاں اشرافیہ اور بااثر خاندان آباد ہیں، لیکن بارش کے بعد یہاں کی گلیاں اور سڑکیں بھی تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس سے یہ بات مزید عیاں ہو جاتی ہے کہ ترقیاتی فنڈز صرف کاغذی خانہ پری تک محدود رہے اور عوامی سہولت کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔موٹر سائیکل سوار اور چنگچی رکشا ڈرائیور نہ صرف حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف شہر میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوامی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ شام اور رات کے وقت جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو سولر لائٹ پولز نہ لگنے کی وجہ سے شہر کی سڑکیں گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں، جس سے حادثات اور جرائم کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی کے ان منصوبوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

نمائندہ جسارت گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاتا ہے

پڑھیں:

لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا

لاہور:   بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان