ایشیا کپ فائنل: پاکستانی کرکٹ ٹیم نے میچ فیس بھارتی حملوں کے متاثرین کو عطیہ کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اعلان کیا ہے کہ ایشیا کپ کے فائنل کی میچ فیس بھارتی حملوں میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں اور بچوں کے لواحقین کو عطیہ کی جائے گی۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی رویہ پورے ٹورنامنٹ میں انتہائی ’مایوس کن‘ رہا۔
سلمان آغا کے مطابق بھارت نے جو کچھ اس ٹورنامنٹ میں کیا وہ کرکٹ کی توہین ہے، ہاتھ نہ ملانا ہمیں نہیں بلکہ کھیل کے احترام کو نشانہ بنانا ہے۔
’اچھی ٹیمیں ایسا نہیں کرتیں، ہم نے خود ہی ٹرافی کے ساتھ تصاویر بنوائیں تاکہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔‘
پاکستانی کپتان نے مزید کہا کہ انہیں بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو سے ذاتی طور پر کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ یقین ہے کہ اگر یہ فیصلہ یادیو پر ہوتا تو وہ ضرور ہاتھ ملاتے۔
’ٹورنامنٹ کے آغاز پر اور ریفری میٹنگ میں سوریا کمار نے مجھ سے ہاتھ ملایا تھا لیکن کیمروں کے سامنے وہ ایسا نہیں کر سکے، مجھے یقین ہے کہ یہ ان کے ذاتی فیصلے نہیں بلکہ دی گئی ہدایات پر عمل تھا۔‘
سلمان آغا کے مطابق کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ہاتھ ملانے سے انکار کیا ہو، جو کھیل کی روح کے منافی ہے۔
’جو کچھ ہوا، وہ بچوں اور شائقین کے لیے غلط پیغام ہے، ہم سب رول ماڈل ہیں اور اس طرح کا رویہ کسی طور درست نہیں۔‘
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری اوور میں شکست دی، تاہم میچ سے قبل اور بعد دونوں ٹیموں نے ہاتھ ملانے سے گریز کیا اور الگ الگ حلقوں میں کھڑی رہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر پاکستانی کپتان نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ٹیم اپنی میچ فیس بھارتی حملوں میں متاثرہ پاکستانی خاندانوں کو عطیہ کرے گی۔
’یہ فیصلہ ہم سب نے مل کر کیا ہے تاکہ ان شہریوں اور بچوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے جو بھارتی حملوں میں شہید ہوئے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی حملوں
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔