کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خوراک کے ضیاع اور فضلے میں کمی سے متعلق آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں خوراک کے ضیاع کی روک تھام اب ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ خوراک کے مؤثر استعمال، بچت اور ضیاع میں کمی کے لیے مختلف منصوبوں پر عملی طور پر کام کر رہی ہے۔خوراک کا ضیاع براہِ راست غریب اور محروم طبقے کو متاثر کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس مسئلے کے تدارک کے لیے کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کا ضیاع کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ خوراک کا بچاؤ عوامی فلاح، ملکی معیشت اور ماحول کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔ سندھ حکومت اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 12.

3 کے حصول کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد خوراک کے ضیاع میں نمایاں کمی لانا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ خوراک کے ضیاع سے زمین، پانی اور محنت جیسے قیمتی وسائل ضائع ہوتے ہیں، اس لیے سندھ حکومت پائیدار زرعی ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ خوراک کا بچاؤ درحقیقت انسانیت کا بچاؤ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خوراک کے ضیاع خوراک کا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد