بٹل میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ایمبولینس کو روک لیا، مریض جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
آزاد کشمیر کے علاقے بٹل میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ایمبولینس کو روک لیا جس کے باعث ایمبولینس میں موجود مریض دم توڑ گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کی امن ریلی پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح کارکنوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلح کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر بٹل میں عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ایمبولینس کو روک لیا جس کے باعث ایمولینس میں موجود مریض جاں بحق ہو گیا، جس کی شناخت محمد صادق کے نام سے ہوئی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے غلیلوں، ہتھیاروں سے پولیس پر بھی حملہ کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلح کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کسی کو بھی اپنے مذموم عزائم کیلئے معمولات زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔