فیکٹ چیک: ٹریفک چالان کے میسیجز، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی کے شہری حالیہ دنوں ایک نئے فراڈ کا نشانہ بننے لگے ہیں۔ مختلف نمبروں سے شہریوں کو ’’ٹریفک چالان‘‘ کے جعلی ایس ایم ایس موصول ہو رہے ہیں، جن میں بظاہر ٹریفک پولیس کے نام پر رقم کی ادائیگی کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت مختلف ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے؟
کراچی ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ ان جعلی پیغامات کا سرکاری اداروں سے کوئی تعلق نہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ ایس ایم ایس دھوکا دہی پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد شہریوں سے پیسے ہتھیانا ہے۔
پولیس کیا کہتی ہے؟
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق پولیس کسی بھی شہری کو پرسنل نمبر سے چالان کا ایس ایم ایس نہیں بھیجتی۔ چالان سے متعلق اصل معلومات صرف سرکاری ویب سائٹس یا آفیشل ذرائع سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی مشکوک پیغام یا لنک پر یقین نہ کریں اور نہ ہی ادائیگی کریں۔
فراڈ کس طرح کیا جا رہا ہے؟
شہریوں کو ملنے والے ان جعلی پیغامات میں ایک غیر مصدقہ لنک دیا جاتا ہے، جس پر کلک کرنے یا ادائیگی کرنے سے نہ صرف رقم کا نقصان ہوسکتا ہے بلکہ ذاتی معلومات بھی چوری ہونے کا خدشہ ہے۔
شہریوں کے لیے رہنمائی
ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس قسم کے پیغامات موصول ہوں تو وہ فوری طور پر ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ کسی بھی چالان کی جانچ پڑتال صرف ٹریفک پولیس کی آفیشل ویب سائٹ یا متعلقہ دفاتر سے ہی کریں۔
یہ دعویٰ کہ ’’کراچی ٹریفک پولیس شہریوں کو پرسنل نمبر سے چالان ایس ایم ایس بھیج رہی ہے‘‘ مکمل طور پر جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے پیغامات جعلساز گروہ بھیج رہے ہیں جن کا مقصد شہریوں کو لوٹنا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ٹریفک پولیس ایس ایم ایس شہریوں کو
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔