مصطفی عامر قتل کیس میں فرد جرم کب عائد کی جائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت جوڈیشل کمپلکس میں مصطفیٰ عامر قتل سمیت 6 مقدمات کی سماعت کے لیے جیل حکام نے ملزم ارمغان، شیراز اور کامران قریشی کو عدالت میں پیش کیا۔
سماعت کے دوران مکمل دستاویزات کے حصول سے متعلق وکیل صفائی کی درخواست پر دلائل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس، خون صاف کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی
وکیل صفائی کے مطابق استغاثا نےکیس کی مکمل دستاویزات فراہم نہیں کیں اور فرد جرم عائد کرنے سے قبل تمام دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہیں۔
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی سیل ہے ابھی کیسے فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو میڈیا پر چل چکی ہمیں دینے میں کیا مسئلہ ہے؟
عدالت نے وکیل صفائی اے استفسار کیا کہ سی ڈی آر اور مقتول کی ایم ایل او رپورٹ آپ کو کیوں چاہیے؟ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ میرے موکل پر قتل کا الزام ہے اور تمام دستاویز فرد جرم سے قبل فراہم کی جانی چاہییں اور دستاویزات کی فراہمی کے لیے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ آئندہ سماعت پر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے پیش کردیں گے۔
مزید پڑھیے: ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد کیا کِیا؟ تفتیش میں نیا انکشاف
عدالت نے مقدمات کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارمغان کراچی مصطفیٰ عامر قتل کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی مصطفی عامر قتل کیس وکیل صفائی عامر قتل
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔