کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش‘بدترین ٹریفک جام
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251001-01-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) خلیج کیمبے اور اس سے ملحقہ گجرات (انڈیا) پر موجود ہوا کے کم دباؤ کے زیر اثر منگل کو کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوئی جس سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، بارش ہوتے ہی مختلف علاقوں سے بجلی غائب ہوگئی، سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، شہریوں کو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعلیٰ سندھ نے انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام ادارے بارش کے دوران مکمل متحرک رہیں اورنکاسی آب کے نظام کو مؤثر اور فعال رکھا جائے۔ تفصیلات کے مطابق بارش سسٹم کے زیر اثرصدر، گرو مندر ،گلشن اقبال ، ڈی ایچ اے، گلستانِ جوہر، بلدیہ ٹاؤن، شیرشاہ اور حسن اسکوائر، ماڑی پور، ہاکس بے، شہید ملت روڈ، پی ای سی ایچ ایس، یونیورسٹی روڈ، پی آئی ڈی سی، لائنزایرا اور کالا پل سمیت دیگر علاقوں میں تندوتیز ہواؤں کے سبب ہلکی سے تیز بارش ہوئی۔ تیز بارش سے اہم شاہراہیں اور سڑکیں زیر آب آگئیں جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے شہریوں کی بہت بڑی تعداد بدترین ٹریفک جام میں بری طرح سے رل گئی، بدترین ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار خواتین اور دیگر شہری پیدل ہی اپنی منزل کی جانب چل دیے۔بارش کے باعث زیر آب سڑکوں کی وجہ سے موٹر سائیکلیں بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا اور وہ اپنی موٹر سائیکل کو پیدل ہی کھینچ کر لے جاتے ہوئے دکھائی دیے۔ بارش کے سبب 60 سے زاید فیڈرز ٹرپ کرگئے جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ بجلی کی بندش کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش اولڈ ائرپورٹ پر 33.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں شہریوں کو ٹریفک جام کی وجہ سے تیز بارش ملی میٹر بارش کے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔