جدید دور میں چوری چکاری کے بھی جدید طریقے آچکے ہیں، آپ کی تمام تر معلومات موبائل فون میں موجود ہیں جو ناصرف واردات میں استعمال ہو سکتی ہیں بلکہ ساتھ ہی آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو شدید مالی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل کرنسی یا موبائل بنکنگ نے بہت سی آسانیوں کے ساتھ اب مشکلات بھی پیدا کرنا شروع کردی ہیں یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے تمام بنکوں کو پابند کیا ہے کہ وہ صارفین کو گاہے بگاہے اپنی معلومات کی حفاظت کے لیے پیغامت بھیجتے رہیں تا کہ ناصرف مالی نقصان سے صارفین کو بچایا جا سکے بلکہ ان کی حساس معلومات کو لیک ہونے سے بھی روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پر 7 قسم کے پیغامات پر کبھی کلک نہ کیجیے گا

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر یا کسی بھی مشہور برانڈ کے نام پر شہریوں کو جعلی انعامات کے پیغامات ملنا تو معمول کی بات ہے اور قیوم آباد کے رہائی محمد ریاض کو بھی کچھ عرصہ قبل ایسا ہی ایک پیغام موصول ہوا۔

محمد ریاض ایک مزدور ہے جو دیہاڑی پر کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی کام مل جاتا ہے کبھی نہیں ملتا کچھ دن مسلسل کام نہیں ملا تو گھر کا خرچہ پورا کرنا مشکل ہو چکا تھا۔ پھر ایک دن مبینہ طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام والوں کی طرف سے 30 ہزار روپے ملنے کا پیغام آیا، خالی جیب نے سوچنے کی صلاحیت ہی ختم کردی، میرے لیے وہ 30 ہزار روپے بہت بڑی رقم تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھ سے رقم دینے کے لیے میری تمام تر معلومات لی گئیں میری والدہ کا نام تک پوچھا گیا مجھ سے شناختی کارڈ مانگا گیا جو میں نے کسی کے نمبر سے بذریعہ واٹس ایپ بھیجا۔ یہ سلسلہ کئی گھنٹوں جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ رقم تو نہیں ملی مجھے لیکن کچھ ہی عرصے بعد مجھے کالز آنا شروع ہوئیں تب مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام پر فراڈ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 100 سالہ شہری، ڈیجیٹل گرفتاری اور ایک کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے نام پر مختلف سروسز فراہم کرنے کی غرض سے ایڈوانس رقم حاصل کی جا چکی تھی اور کام پورا نا ہونے پر متاثرہ لوگوں نے میرے شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے میرا موبائل نمبر نکالا جو میرے نام تھا اور مجھ سے رقم کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس چکر میں قانونی معاملات میں پڑ گیا اور کافی عرصہ تک اس مشکل سے دوچار رہا، آخر میں ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی لالچ میں آنے سے پہلے ایک بار سوچیے ضرور۔

یہ تو تھی محمد ریاض کی کہانی۔ اب اسکیمرز ہر آنے والے منصوبے کا پہلے سے استعمال شروع کردیتے ہیں جیسے کہ کراچی میں شروع ہونے والا ای چالان ہے وہ ابھی تک شروع بھی نہیں ہوسکا لیکن شہریوں کو چالان ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ مجبوراً ٹریفک پولیس کو اپنا بیان جاری کرنا پڑا۔

ٹریفک پولیس کراچی نے عوام الناس کو پیغام دیا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض نوسر باز عناصر کی جانب سے شہریوں کو ایزی پیسہ سے منسوب ٹریفک چالان کی ادائیگی کے جھوٹے ایس ایم ایس موصول ہو رہے ہیں، یہ پیغامات جعلی، گمراہ کن اور فراڈ پر مبنی ہیں، جن کا کراچی ٹریفک پولیس یا کسی سرکاری ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ملک ریاض کے دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئےگی، نیب کا انتباہ

کراچی ٹریفک پولیس چالان کی ادائیگی کے لیے کسی فرد کو پرسنل نمبر سے ایس ایم ایس نہیں بھیجتی، شہریوں سے گزارش ہے کہ اس طرح کے مشکوک پیغامات پر ہرگز یقین نہ کریں، اور کسی بھی غیر مصدقہ لنک یا نمبر پر ادائیگی نہ کریں، اپنی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھیں اور کسی بھی پریشانی کی صورت میں ٹریفک پولیس ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کریں۔

تمام ادارے آپ ایس ایم ایس یا کال کی صورت میں احتیاط کرنے کا پیغام دیتے ہیں تا کہ آپ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے محفوظ رہ سکیں کچھ رقم یا تھوڑی سی لالچ کے لیے اپنے آپ کو اور اہل خانہ کو پریشانی میں نا ڈالیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

bisp fake alert scam messages اسکیم فراڈ فیک میسج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکیم فراڈ فیک میسج ٹریفک پولیس ایس ایم ایس کہنا تھا کہ ان کا کہنا شہریوں کو کسی بھی کے لیے

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار