امریکی فوج میں موٹے جنرلوں کا دور ختم ہوگیا، وزیر جنگ کا سخت اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ورجینیا: امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا کی فوج میں بھاری بھرکم اور غیر فٹ جرنیلوں کا دور ختم ہوگیا ہے۔
میرین کور بیس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اب ترقیاں کوٹے کے بجائے صرف میرٹ پر دی جائیں گی اور فوجی افسران کو اعلیٰ ترین جسمانی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی فوج میں داڑھی بڑھانے پر پابندی ہوگی جبکہ تمام فٹنس ٹیسٹ مردوں کے معیار کے مطابق لیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرپیشہ وارانہ جسم اور موٹی توند رکھنے والے افسران برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو افسران نئے اصولوں اور ایجنڈے کی حمایت نہیں کرتے وہ مستعفی ہوجائیں۔ وزیر جنگ نے الزام عائد کیا کہ "احمق سیاسی رہنماؤں" نے فوج کو غلط سمت دی اور ادارے کو ایک ’Woke‘ (سماجی ناانصافی) کے محکمے میں بدل دیا، مگر اب یہ پالیسی ختم کر دی گئی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے ایک سیاہ فام جنرل اور خاتون ایڈمرل کو جبری طور پر نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بگڑی ہوئی فوجی ثقافت کا حصہ تھے۔ تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے، جنہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں فوجیوں کی تعیناتی کو تربیتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم