Islam Times:
2026-07-24@07:45:12 GMT

فلسطین، مزاحمت، انصاف اور تاریخ کا مقدمہ

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

فلسطین، مزاحمت، انصاف اور تاریخ کا مقدمہ

اسلام ٹائمز: دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فلسطین کی آزادی محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ مظلوم کے حق میں اور ظالم کیخلاف ہوا ہے اور یقیناً اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، کیونکہ فلسطین کی آزادی صرف فلسطینی عوام کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آزادی ہے۔ آج دنیا کو ایک بار پھر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی تاریخ کی سمت ہے اور یہی مزاحمت کے ثمرات ہیں۔ مستقبل انہی کا ہے، جو حق پر ڈٹے ہیں اور خونِ شہداء ہمیشہ آزادی کی روشنی کو زندہ رکھے گا۔ تحریر: آغا زمانی

فلسطین صرف ایک خطۂ زمین کا نام نہیں بلکہ یہ تاریخ، ایمان اور انسانیت کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ صدیوں سے اس مقدس سرزمین کے اصل مکین، فلسطینی، اپنی بقاء اور آزادی کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے، جو صدیوں سے انبیاء کی گواہ اور امت مسلمہ کے دل کی دھڑکن ہے۔ لیکن بدقسمتی سے صہیونی غاصب طاقتوں نے عالمی استعماری قوتوں کی پشت پناہی سے اس پاکیزہ خطے پر قبضہ کرکے اسے ظلم، بربریت اور جبر کی علامت بنا دیا۔ عالمی طاقتوں نے ظلم اور منافقت کے ساتھ ایک ایسا مصنوعی نظام مسلط کیا ہے، جس کا نام غاصب صہیونی ریاست ''اسرائیل'' ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔ فلسطین آج بھی ایک ایسا زخمی وجود ہے، جس کی روح انصاف اور آزادی کے لیے تڑپ رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو بعض حلقے "نادر موقع" قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کے بنیادی حقِ خود ارادیت، حقِ واپسی اور اپنی زمین پر مکمل اختیار کو صریحاً نظر انداز کیا گیا ہے۔ سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے درست نشاندہی کی کہ اس منصوبے میں کوئی واضح ٹائم لائن، کوئی مستقل سیز فائر اور نہ ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی حقیقی ضمانت موجود ہے۔ یہ دراصل ایک نیا "کالونیل پراجیکٹ" ہے، جسے عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر فلسطینیوں پر تھونپنا چاہتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ سرگرمیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو بعض حلقے مسئلہ فلسطین کا حل قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو صریحاً نظر انداز کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں غزہ کو ہتھیاروں سے خالی کرنے، اسرائیلی افواج کے "مرحلہ وار" انخلاء اور عالمی امن بورڈ کے ذریعے "امن کی نگرانی" جیسے نکات شامل ہیں، جو دراصل ایک نئے نوآبادیاتی منصوبے کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کے حقِ واپسی اور اپنی زمین پر مکمل اختیار کے سوال کو دانستہ طور پر غائب کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی سینیئر صحافی حامد میر نے دوحہ ڈیکلریشن اور وزیراعظم پاکستان کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ٹو اسٹیٹ سلوشن" دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے 1947ء میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، لہٰذا آج بھی پاکستان کی نظریاتی اساس اسی موقف پر قائم رہنی چاہیئے۔ یعنی فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام ہی کرسکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں کہا کہ جب تک فلسطینی خود کوئی فیصلہ نہ کریں، کوئی بھی منصوبہ ان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دنیا کی کوئی طاقت یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ لاکھوں شہداء کے خون سے لکھی گئی تاریخ کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرے۔ یہی بات امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مزید واضح انداز میں بیان کی کہ "امن معاہدے کے نام پر ایسی کوئی بھی دستاویز جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشوں پر لکھی جائے، وہ ظالموں کی حمایت کے مترادف ہے۔" یہ بیانات اور تجزیئے ایک بڑی حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر حل ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر بھی کہتا ہے کہ جس قوم کی سرزمین پر قبضہ کیا جائے، اسے مسلح جدوجہد کا حق حاصل ہے۔ فلسطینی عوام اس اصول کے مطابق اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہی ان کا بنیادی حق ہے۔ یہ تمام نکات ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین محض سیاسی نہیں بلکہ یہ انصاف اور ظلم کے درمیان ایک کائناتی معرکہ ہے۔

رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کا فرمان اس حوالے سے ایک راہنمائی ہے: "یقین رکھیں کہ اس مزاحمت کا نتیجہ صہیونی غاصب اور اس کے حامیوں کی شکست ہے۔" اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کے ناقابلِ انکار حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا: فلسطینیوں کے حقِ واپسی کی ضمانت، غاصبانہ قبضے کی دستاویزات کی منسوخی، اسرائیلی جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات، متاثرین کے لیے معاوضہ اور بحالی کا انتظام اور سب سے بڑھ کر فلسطینی ریاست کا مکمل قیام جس پر فلسطینی خود حکمرانی کریں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے، جو فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فلسطین کی آزادی محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ مظلوم کے حق میں اور ظالم کے خلاف ہوا ہے اور یقیناً اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، کیونکہ فلسطین کی آزادی صرف فلسطینی عوام کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آزادی ہے۔ آج دنیا کو ایک بار پھر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی تاریخ کی سمت ہے اور یہی مزاحمت کے ثمرات ہیں۔ مستقبل انہی کا ہے، جو حق پر ڈٹے ہیں اور خونِ شہداء ہمیشہ آزادی کی روشنی کو زندہ رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ فلسطین کی آزادی ہوگا کہ فلسطین فلسطینی عوام پوری انسانیت نہیں بلکہ یہ امتحان ہے کا مسئلہ دنیا کو ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز