پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔اس حوالے سے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ 2015 میں جاری کردہ 10 سالہ یورو بانڈ 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا جس کے بعد پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔انہوںنے کہا کہ قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کے مالی نظم و ضبط کا ثبوت ہے، لیکویڈیٹی میں بہتری آئی ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی خود مختار ریٹنگ میں بہتری کی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں، قرض کا جی ڈی پی تناسب 77 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آگیا۔انہوںنے کہا کہ کل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 38 سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا ۔خرم شہزاد نے کہا کہ مالی سال 2025 میں قرض کے بڑھنے کی رفتار نمایاں طور پر کم رہی، عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی بروقت ادائیگی یورو بانڈ نے کہا کہ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔