Nawaiwaqt:
2026-06-03@05:24:01 GMT

پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔

پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔اس حوالے سے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ 2015 میں جاری کردہ 10 سالہ یورو بانڈ 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا جس کے بعد پاکستان نے 500 ملین ڈالر یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔انہوںنے کہا کہ قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کے مالی نظم و ضبط کا ثبوت ہے، لیکویڈیٹی میں بہتری آئی ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی خود مختار ریٹنگ میں بہتری کی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں، قرض کا جی ڈی پی تناسب 77 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آگیا۔انہوںنے کہا کہ کل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 38 سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا ۔خرم شہزاد نے کہا کہ مالی سال 2025 میں قرض کے بڑھنے کی رفتار نمایاں طور پر کم رہی، عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی بروقت ادائیگی یورو بانڈ نے کہا کہ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا