حکومت سے ماضی میں جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، قمر زمان کائرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز

لاہور(سب نیوز)پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہم ماضی میں حکومت سے جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، ملکی حالات کے پیش نظر ہم خرابی نہیں چاہتے تھے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے پاور شیئرنگ نہیں کر رہے بلکہ سپورٹ کر رہے ہیں، ہم نے وزارتیں لیے بغیر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا مطلب کوئی بلینک چیک دینا نہیں تھا کہ حکومت جو چاہے کرتی رہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سوچ تھی ملک کے مسائل کا حل نکالنا ہے، ہم نے حکومت کو ہر مقام پر سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، ہم بھی پنجاب والے ہیں لیکن کوئی تجویز دیتے ہیں تو یہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے مختلف بحران کا شکار رہا اور ہر حکومت نے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی، آج بھی دہشت گردی اور بارڈر کے مسائل سمیت مختلف مشکلات ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اچانک کچھ دنوں سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہے، اس کا نہ جمہوریت اور نہ سیاست کو فائدہ ہے، جنگی حالات سمیت ہر موقع پر حکومت کو سپورٹ کیا لیکن اس مطلب یہ نہیں مسلم لیگ ن جو کرے گی ہم خاموش رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کے درمیان مکالمہ شروع ہوا، ہم پچھلی حکومت میں بھی ان کے ساتھ تھے اور ہم ماضی کے زخموں کو بھلانا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کے دوستوں سے درخواست ہے وہ لہجہ اور لفظ استعمال نہ کریں، بلاول بھٹو بہت تحمل سے چیزوں کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بار خوفناک سیلاب آیا اور بہت نقصان ہوا ہے، پنجاب اور سندھ حکومت نے اچھا کام کیا، ہم نے تعریف کی لیکن جہاں خامی ہوگی اس پر بھی رائے دیں گے۔ ہماری رائے پر وزیر اعلی کہتی ہیں کہ میں انگلی توڑ دوں گی اور بات نہیں کرنے دوں گی۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پیپلز پارٹی ہر جگہ پنجاب حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ چیئرمین بلاول بھٹو، گورنر پنجاب اور دیگر نے ہمارے لوگوں سے ملاقات کی اور امداد کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیپلز پارٹی الزام تراشی نہ کرے، مقابلہ کرنا ہے تو پرفارمنس کی بنیاد پر کریں، عظمی بخاری پیپلز پارٹی الزام تراشی نہ کرے، مقابلہ کرنا ہے تو پرفارمنس کی بنیاد پر کریں، عظمی بخاری پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات،پنجاب کا سیلاب سے بجٹ سرپلس کی نشاندہی کرنے سے انکار سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 18دہشتگرد ہلاک پی ٹی آئی کے معین ریاض قریشی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر سی ڈی اے کا بڑا اقدام: کابینہ ڈویژن ہاؤسنگ سوسائٹی کو پبلک پلاٹس کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس، کاپی سب نیوز پر جیل میں ہونے کے باوجود ایکس اکاؤنٹ کیسے فعال ہے؟ عمران خان کو سوالنامہ دے دیا گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی حکومت سے سب نیوز

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور