پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے کہا ہے کہ 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی، جو ماحولیاتی تحفظ اور معیشت کی پائیداری کی سمت اہم پیشرفت ہوگی۔
انہوں نے یہ بات الیکٹرک وہیکلز اسکیم (PEV) کی پہلی ای بالٹنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کہا کہ پیو اسکیم کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو الیکٹرک گاڑیوں پر براہِ راست سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ انہیں سستی اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: نئی انرجی وہیکل پالیسی پاکستان کا سرسبز مستقبل، 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک بنانے کا ہدف
ان کا کہنا تھا کہ 2 پہیہ گاڑیوں پر 50 ہزار روپے بینک لیز اور 80 ہزار روپے سیلف فنانس پر سبسڈی دی جائے گی، جبکہ 3 پہیہ گاڑیوں پر سبسڈی 2 لاکھ روپے بینک لیز اور 4 لاکھ روپے سیلف فنانس پر فراہم کی جائے گی۔
سیف انجم نے بتایا کہ پیو اسکیم سے پاکستان کی معیشت کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی کیونکہ تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوگا۔ مزید برآں، 2030 تک ملک میں 45 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی متوقع ہے، جس سے نہ صرف فضا صاف ہوگی بلکہ صحت کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پیو اسکیم اور قومی ای وی پالیسی کے تحت ایک لاکھ سے زائد نئی نوکریاں پیدا ہوں گی جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع فراہم کریں گی۔
ای بالٹنگ کے پہلے مرحلے کو شفاف اور محفوظ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں ’گرین ٹرانسپورٹ انقلاب‘ کی شروعات ہے، جو ملک کو جدید، ماحول دوست اور پائیدار معیشت کی طرف لے جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2023 ای وی پاکستان سیف انجم گاڑیاں الیکٹرک وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای وی پاکستان سیف انجم گاڑیاں الیکٹرک گاڑیاں الیکٹرک پاکستان میں نے کہا
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔