سید علی گیلانی کی قائم کردہ "تحریک حریت" کا دفتر سرینگر پولیس نے قرق کیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
بھارتی وزارت داخلہ نے تنظیم کو "دہشت گردی کو ہوا دینے اور بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے" کے الزام میں پہلے ہی کالعدم قرار دیا ہے اور سید علی گیلانی 2022ء میں اسی عمارت پر وفات پا گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پولیس نے آج سرینگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں واقع تحریک حریت نامی علیٰحدگی پسند تنظیم کے دفتر کو قرق کر لیا۔ یہ تنظیم بزرت علیٰحدگی پسند رہنما مرحوم سید علی گیلانی کی قائم کردہ تھی اور 2023ء میں مودی حکومت نے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ضبط کی گئی جائیداد میں ایک کنال اور ایک مرلہ رقبہ کی اراضی اور اس پر تعمیر کی گئی ایک تین منزلہ عمارت شامل ہے۔ اسی عمارت میں برسوں تک مرحوم سید علی شاہ گیلانی رہائش پذیر تھے دفتر سرگرمیاں بھی اسی عمارت میں انجام دی جاتی تھیں۔ پولیس کی جانب سے انجام دی گئی یہ کارروائی یو اے پی اے (Unlawful Activities Prevention Act) کے تحت درج ایک کیس کے تناظر میں کی گئی۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام جمع کئے گئے شواہد اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد عمل میں لایا گیا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے تنظیم کو "دہشت گردی کو ہوا دینے اور بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے" کے الزام میں پہلے ہی کالعدم قرار دیا ہے اور سید علی گیلانی 2022ء میں اسی عمارت پر وفات پا گئے تھے اور ان کی قبر بھی اس کے محض چند میٹر کے فاصلے پر ہی واقع ہے۔ ضبط کی گئی پراپرٹی اکیس مرلہ اراضی اور تین منزلہ مکان پر مشتمل ہے۔ پولیس نے اس کارروائی کو وادی میں "غیر قانونی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات کا اہم قدم" قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق سلامتی کے لئے خطرہ سمجھے جانے والے عناصر اور تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے تاکہ امن اور قومی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید علی گیلانی قرار دیا کی گئی
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔