بیوی اور دو بچوں کے لیے 75ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کرنے کے گارڈین جج کے عبوری حکم کے خلاف شوہر کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اکتوبر2025ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیوی اور دو بچوں کے لیے 75ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کرنے کے گارڈین جج کے عبوری حکم کے خلاف شوہر کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا شوہر نے پٹیشن میں اپنی اہلیہ سےمتعلق جس طرح کے الفاظ کا استعمال کیا وہ اس کی بدنیتی ظاہر کرتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نکاح کے دوران بیوی کا نان نفقہ حاصل کرنے کا حق غیر مشروط ہے اور اسے شوہر کے حقوق زوجیت کے دعوئوں سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے عمر اکبر علی گھمن کی درخواست مسترد کر دی جس میں نان نفقہ کے عبوری حکم کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا تھا کہ اہلیہ نافرمان ہے، ازدواجی حقوق کی بحالی کے لیے بار بار کی گئی درخواست کو رد کیا۔(جاری ہے)
اہلیہ ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے شوہر کا ساتھ نہ دے تو کسی قسم کے نان و نفقہ کی حقدار نہیں۔
گارڈین جج اسلام آباد نے پٹیشنر کی اہلیہ کے لیے 15 ہزار اور دو بچوں کے لیے 30 ہزار روپے فی کس ماہانہ خرچہ دینے کا عبوری حکم سنایا تھا جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ عدالت نے لکھا کہ فیملی جج کے 6 مارچ 2025ء کے آرڈر میں کوئی بے قاعدگی یا غیر قانونی بات نہیں۔ شوہر نے پٹیشن میں اہلیہ سےمتعلق جس طرح کے الفاظ استعمال کیے وہ اس کی بدنیتی ظاہر کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گارڈین جج کو ہدایت کی ہے کہ نان نفقہ کا مقدمہ دو ماہ کے اندر نمٹا دیا جائے تاکہ عبوری نان نفقہ حتمی فیصلے کے ساتھ ضم ہو سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد گارڈین جج کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔