Juraat:
2026-07-24@06:26:11 GMT

ہچکولے کھاتی معیشت کے استحکام کے دعوے!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

ہچکولے کھاتی معیشت کے استحکام کے دعوے!

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز لندن میں سمندر پار پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو تین سال پہلے معیشت ہچکولے کھا رہی تھی۔

اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ معیشت کی ترقی کا وقت آچکا ہے ملکی معیشت مشترکہ کاوشوں کی وجہ سے نہ صرف مستحکم ہوئی بلکہ اب درست سمت پر گامزن ہے۔اور یہ بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ اس کی بہتری میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اہم کردار ہے۔

ہم نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، اب ملک معاشی ترقی کی طرف بڑھے گا۔ایک طرف وزیراعظم معیشت کے استحکام کے دعوے کررہے ہیں دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ا س وقت آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں موجود ہے جس کے ساتھ 7؍ ارب ڈالر قرض کے موجودہ پروگرام کے دوسرے جائزے کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں اور کلائمیٹ فنانسنگ کے پہلے جائزے پر مذاکرات بھی شیڈول کا حصہ ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے کلائمیٹ فنانسنگ پروگرام کے تحت مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کی شرط پر کلائمیٹ بجٹ کے لیے نیا طریقہ کار طے کیا گیا ہے اورئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پیڑول اور ڈیزل کے فی لیٹر پر ڈھائی، ڈھائی روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد کردی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف آئندہ 2 سال میں کلائمیٹ فنانسنگ پروگرام کے تحت پاکستان کو کم وبیش ایک ارب 30کروڑ ڈالرز فنڈز دے گا۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق صورت حال یہ ہے کہ حالیہ قرضہ پروگرام کے سلسلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاملات اب ایسی سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں عام پاکستانی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے بارے میں بجا طور پر فکر مند دکھائی دیتے ہیں کیونکہ حکومت نے عالمی ساہوکار کو ہر اہم اور غیر اہم ادارے اور محکمے کے معاملات میں دخل اندازی کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ تیل کی قیمتوں کا تعین بھی آئی ایم ایف کرتا ہے اور یہ بھی آئی ایم ایف بتاتا ہے کہ بجلی کتنے روپے فی یونٹ دی جائے گی۔ ا سٹیٹ بینک کے معاملات بھی آئی ایم ایف کی نگرانی میں چل رہے ہیں اور مختلف اداروں کی نجکاری بھی اسی کے ایما پر ہو رہی ہے۔ اگر ان سارے معاملات کا اختیار ایک غیر ملکی ادارے کو سونپ کر حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ ملک کو ترقی اور استحکام کی طرف لے کر جا رہی ہے تو یہ اس کی خام خیالی نہیں تو کیاہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اس کی مدد نہیں کر رہا بلکہ وہ گزرتے وقت کے ساتھ اس پر اپنا شکنجہ مزید کستا جا رہا ہے۔وزیراعظم اگر سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورت حال میں عوام کو معیشت کے استحکام کی نوید سنا کر وہ لوگوں کو مطمئن کرسکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے کیونکہ عام آدمی دیکھ رہاہے کہ ملک میں حکمرانوں اور ان کے مقرب اشرافیہ کے سوا کسی کی حالت میں بہتری نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس آج ہر شخص پہلے سے کہیں زیادہ پریشان ہے اور یہ پریشانی لوگوں کے دلوں میں لاوے کے طرح پک رہی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر باہر آسکتی ہے۔وزیراعظم اور ان کے معاونین کی سمجھ میں یہ بات آخر کیوں نہیں آتی کہبار بار آئی ایم ایف کے در پر کشکول لے کر جانے کی بجائے حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جن کے ذریعے ملک خود کفالت کی طرف جائے۔ پاکستان کے پاس چین کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے بہت وسیع مواقع موجود ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں دوست ممالک کے ساتھ جامع مشاورتی عمل شروع کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ کس ملک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان اس طرف توجہ دے تو چند ہی برس میں وہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ وہ نہ صرف آئی ایم ایف کا پچھلا قرضہ اتار دے بلکہ آئندہ اسے کبھی اس کی طرف جانے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے لیکن اس حوالے سے بنیادی شرط یہ ہے کہ حکمران ذاتی اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر ریاست اور عوام کے بارے میں سوچیں اور خلوصِ نیت کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں۔

وزیراعظم اس بات سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ ان کی جانب سے معیشت کے استحکام کے دعووں کے برعکس ملک پر قرضوں کے بوجھ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے جس کا اندازہ وزارت خزانہ کی رپورٹ سے لگایا جاسکتاہے جس کے مطابق صرف گزشتہ 3سال کے دوران سرکاری قرضہ 31 ہزار 200 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔سرکاری قرضے میں گزشتہ 9 سال کے دوران 300 فیصد سے زائد یعنی 60 ہزار 800 ارب روپے کے اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔جون 2018 سے جون 2022 تک سرکاری قرضے میں 24 ہزار 900 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ ہواہے ، جون 2025 تک مجموعی قرضے کا حجم 80 ہزار 500 ارب رہا یعنی قرضوں میں 60 ہزار 800 ارب روپے کا اضافہ، وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ میں قرضوں میں اضافے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق گزشتہ 9 سال کے دوران 300 فیصد اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ جون 2018 سے جون 2022 تک سرکاری قرضے میں 24ہزار 900ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جون 2025 تک مجموعی سرکاری قرضے کا حجم 80 ہزار 500 ا رب روپے رہا۔ اس میں مقامی سرکاری قرضہ 54ہزار 500ارب اور غیرملکی قرضہ 26 ہزار ارب روپے تھا۔وزارت خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2016 تک مجموعی سرکاری قرضہ 19 ہزار 700 ارب روپے تھا۔یہ رپورٹ خود حکومت کے ایک مقتدر ادارے کی ہے جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ وزارت خزانہ کے جاری کردہ ان اعدادوشمار کے ہوتے ہوئے کیا وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے ۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ عوام کو خیالوں کی دنیا سے باہر لاکرجرات سے کام لیتے ہوئے حقائق سے آگاہ کریں ،وزیراعظم کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فی کس آمدنی ایک عدد ہے، جو صرف کاغذ پر موجود ہوتا ہے۔ مگر ایک بچہ جو صاف ہوا میں سانس لے، ایک ماں جو کینسر سے بچ جائے، ایک شہر جس میں صاف پانی اور محفوظ سڑکیں ہوں یہی اصل انسانی ترقی ہے۔ وزیراعظم اس بات سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ عالمی بینک نے حال ہی میں غربت اور عدم مساوات پر جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں ہوش ربا اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 برسوں میں غربت میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2024 میں یہ 25.

3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پے در پے آنے والی حکومتوں کی کبھی بھی ترجیح غربت اور عدم مساوات کو کم کرنا نہیں رہی ۔حکومت کا غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنے کے لیے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی تلاش کا نعرہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ یہ وہی غلطی ہے جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ حکومت کا اصل کام براہِ راست سرمایہ کاری کی تلاش نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہو اور عوام کو ایسے مواقع فراہم کرنا ہے جس سے ترقی کو فروغ ملے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط صارف مارکیٹ وجود میں آئے۔اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ لوگوں کو غربت سے کیسے نکالا جائے۔ عالمی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹوں سے ظاہرہوتاہے کہ اس وقت ملک کی تقریباً نصف آبادی کو مکمل معاشی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کیلئے حکومت کو اپنی توانائی اس جانب صرف کرنی چاہیے کہ 15 سے 24 برس کی عمر کے 37 فیصد بے کار نوجوانوں کو روزگار یا تربیت فراہم کی جائے۔توجہ کا فقدان واضح ہے۔ حکومت کی ترجیح سرخیوں میں آنا اور سرمایہ کاری کے لیے خارجہ پالیسی کے فوائد کو استعمال کرنا لگتا ہے۔ لیکن مارکیٹ پر مبنی، کارکردگی تلاش کرنے والی سرمایہ کاری اس طرح نہیں آتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کو کچھ مالی ذخائر بطور تحفہ مالی معاونت میں مل جائیں۔ ایسی صورت میں پیدا ہونے والی لیکویڈیٹی کو غربت کم کرنے، بالخصوص دیہی علاقوں میں (جہاں غربت کی شرح 28.2 فیصد ہے جو شہری علاقوں کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہے)، پر خرچ کیا جانا چاہیے۔

گندم کی امدادی قیمت ختم کرنے کے بعد صوبائی حکومتوں کے رویے نے چھوٹے کسانوں کی آمدنی کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی دیہی علاقوں میں زیادہ سنگین ہیں، جہاں گزشتہ برسوں میں آنے والے سیلاب نہ صرف فصلوں بلکہ مویشیوں کی صورت میں اثاثے بھی تباہ کر گئے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ فنڈز اس جانب منتقل کرے اور ایسا ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے تعاون حاصل کرے جو موسمیاتی آفات کے مقابلے میں لچکدار ہو۔عالمی بینک کی رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو شہروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی (informal urbanisation) ہے، جو نئے مسائل کو جنم دے گی۔ حکومت کو شہری منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے اور ساتھ ہی دیہی علاقوں میں معاشی و معاشرتی حالات کو بہتر بنانا چاہیے۔ معاشی پالیسیوں میں معیشت میں باضابطگی بڑھانے پر زور دینا چاہیے، کیونکہ 85 فیصد ملازمتیں غیر رسمی شعبے میں ہیں۔ ان کارکنوں کے پاس نہ پنشن ہے، نہ طبی سہولتیں اور نہ ہی دیگر مراعات، جس کی وجہ سے وہ کسی بھی جھٹکے کے وقت نہایت کمزور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ملازمین کو ان کے حقوق ملیں، تاکہ وہ مزید حوصلہ افزائی پائیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں۔ غربت کے خاتمے اور ایک متحرک متوسط طبقے کے قیام کے لیے تعلیم، غذائیت اور ماحول میں سرمایہ کاری نہایت ضروری ہے۔ تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی (stunting) کا شکار ہیں، 25 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں اور پرائمری تعلیم حاصل کرنے والے 75 فیصد بچے ایک عام کہانی تک نہیں پڑھ سکتے۔ تعلیم کو سب سے بڑی ترجیح بنانا ہوگی۔مجموعی طور پر، بہتر جغرافیائی و سیاسی حیثیت کے جشن منانے کا وقت نہیں ہے۔ خود اطمینانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اصلاحات کا عمل، جو اس وقت کمزور ہے، اسے مضبوط بنانا ہوگا۔ مشکل فیصلے درکار ہیں۔ اگر کوئی حقیقی پیش رفت ہوگی تو دنیا اسے خود تسلیم کرے گی اور سرمایہ کاری اس کے نتیجے میں آئے گی۔عالمی بینک نے پاکستان میں غربت و افلاس کے حوالے سے اپنی حالیہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ترقی کا موجودہ ماڈل 2018 سے 2025 کے دوران غربت و افلاس کی سطح پر فرق ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔بین الاقوامی پاورٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں غربت 45 فی صد پر کھڑی ہے، قومی زراعت سکڑ رہی ہے، تعمیرات میں اجرتیں کم، قرضے اور خسارے بڑھ رہے ہیں، سرمایہ کاری کمزور ہے، سیاسی عدم استحکام
کاروبار کو تباہ کر رہا ہے، غریبوں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں اور لاکھوں نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ طاقتور اشرافیہ پالیسیوں کو اپنے فائدے کے لیے موڑتی ہے اور مقامی حکومتوں کی ناقص ٹیکس پالیسی کا بوجھ زیادہ تر نچلے طبقے پر ڈالا جاتا ہے۔ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ کے مطابق غربت کا خاتمہ مختلف عوامل پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں میکرو اکنامک استحکام، افراط زر میں کمی، آمدنی میں اضافہ اور ملک کی معیشت کو کھولنا شامل ہے۔

عالمی بینک کی یہ رپورٹ ملک کی مجموعی معاشی صورت حال، عوام کی حالت زار اور سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل اور سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔ موجودہ حکومت کے ارباب اختیار اور ان کے وزراء تواتر کے ساتھ ملک کی معیشت بہتر ہونے اور غربت میں کمی اور مہنگائی و گرانی نیچے آنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام اور نظام حکومت کی مضبوطی کی دلیلیں دی جا رہی ہیں۔ جب کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے جس کی ایک جھلک عالمی بینک کی مذکورہ رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت کو مستحکم قرار دیا جا سکتا ہے؟ ملک میں غربت و بے روزگاری اور مہنگائی میں برق رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر نوکری کی تلاش میں سرگرداں و پریشان گھوم رہے ہیں۔ روزگار کے مواقعوں کی عدم دستیابی کے باعث پڑھے لکھے نوجوان چار و ناچار بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ملک کی نصف کے قریب آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ بدقسمتی سے اس تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کا مہنگائی پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا، روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھ کر عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا اور چینی جیسی اہم اور بنیادی اشیا عوام کو سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں ہیں۔ملک کے چاروں صوبوں میں آٹے اور چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں صوبائی حکومتیں ناکام نظر آتی ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے تلخ زمینی حقائق کی روشنی میں حکومت کے سیاسی، معاشی اور عدالتی استحکام کے دعوؤں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے۔
٭٭٭

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: معیشت کے استحکام اور سرمایہ کاری سرمایہ کاری کے پاکستان میں سرکاری قرضے آئی ایم ایف استحکام کے پروگرام کے عالمی بینک سلسلے میں رپورٹ میں اضافہ ہو صورت حال ارب روپے حکومت کو چاہیے کہ کے دوران کی رپورٹ کے مطابق کرنے کے ہیں اور رہے ہیں عوام کو کے ساتھ اس بات جا رہی کے لیے گیا ہے ملک کی ہے اور رہا ہے کی طرف رہی ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار