آج پاکستان کو ایک معاملہ فہم قیادت اور دانشمندانہ حکمت عملی کی شدید ضرورت ہے، چوہدری محمد سرور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کشمیر کے موجودہ حالات انتہائی تشویشناک قرار دے دیا، آج پاکستان کو ایک معاملہ فہم قیادت اور دانشمندانہ حکمت عملی کی شدید ضرورت ہے جو حالات کو مزید بگڑنے سے بچائے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افسوس کہ موجودہ حکومت پاکستان نے کشمیریوں کے درینہ مطالبات کا فوری اور جامع حل کرنا تلاش کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال سے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں کشمیر میں قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا پیغام ہے کہ کشمیر میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ان کے رہنماؤں سے فوری مذاکرات کیے جائیں اور ان کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ میں پچھلے 50سال سے کشمیری کمیونٹی کےساتھ کام کر رہا ہوں انکی پاکستان کے ساتھ وفاداری ، محبت ،استقامت کسی بھی شک سے بالاتر ہے ،کشمیر کی موجودہ حالات پر گہری تشویش ہے حکومت وقت سے مطالبہ ہے ہوش کے ناخن لے اورکشمیر کی تمام قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تمام مطالبات کا فوری حل نکالے۔
لاہور میں 13 سالہ بچے سے بدفعلی کرنے والے ملزمان گرفتار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔