مودی کی زبان نہ بولیں، اپنے چاچو کی حکومت ختم کرنی ہے کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02اکتوبر 2025ء ) ندیم افضل چن کا مریم نواز کو کہنا ہے کہ کیااپنے چاچو کی حکومت ختم کروانی ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے وزیر اعلٰی مریم نواز کو دوبارہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ مریم نواز مودی کی زبان نہ بولیں، اپنے چاچو کی حکومت ختم کرنی ہے؟ پنجاب کارڈ نہ کھلیں، یہ زبان قبول نہیں۔
دوسری جانب مرکزی ترجمان پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا ہے کہ الیکشن میں شکایات ہوتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی پارلیمانی عمل کوچلنے دینا چاہتی ہے، آج بھی ہماری کوشش کہ پارلیمانی پراسیس کو چلنا چاہیے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے صحافیوُں سے اظہار یکجہتی کے لئے پریس گیلری کا دورہ کیا۔(جاری ہے)
شازیہ مری نے پی آر اے کے انتخابی عمل کا مشاہدہ کیا ۔
مرکزی ترجمان پی پی پی پی شازیہ مری کی پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اتخابات ہونا خوش آئند ہے۔ پی آر اے الیکشن پراسیس اور تنظیم کو جمہوری انداز میں چلارہے ہیں۔ پارلیمانی رپورٹرز پارلیمنٹ کے اجلاس کی کوریج کرتے ہیں۔ پی آراے الیکشن میں گہما گہمی اور جمہوری رویہ قابل تقلید ہے۔ الیکشن پراسیس پرتمام سٹیل ہولڈرز کا اعتماد ہوناخوش آئند ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے عوام کو ووٹ کی طاقت کا سرچشمہ بنایا۔ الیکشن میں شکایات بھی ہوتی ہیں ہم شکایات پربات کرتے ہیں لیکن پارلیمانی پراسیس کوچلنے دینا چاہتے ہیں، آج بھی ہماری کوشش ہے آج بھی پراسیس کو چلنا چاہیے۔ الیکشن کا عمل اتناشفاف ہوناچاہیے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد ہونا چاہیے۔ عام انتخابات میں الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کو شکایات ہوتی ہیں۔ جتنے زیادہ الیکشنز ہونگے اتناہی پراسیس شفاف ہوتاجائے گا۔ آزادی رائے پرقدغن نہیں ہوناچاییے۔ سب کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آئینی حدود ضروری ہیں ۔ رویے ایسے یں صبر کم ہوتا جار ہاہے اس سے ماحول بگڑتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے سینئر صحافی اعجازاحمد کےساتھ جوسلوک ہوا وہ کسی بھی جماعت کی جانب سے ہوگا اس کی مذمت کرینگے۔ ہماری جماعت کی جانب سے اگر کبھی ایسا ہوتا تو ہم ڈسپلنری کارروائی کرتے ہیں۔ ہرسیاسی جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنی رویے پر غور کرے اگرکوئی بات اچھی نہ لگے اس پربات نہ کریں ۔ سوشل میڈیا پر تصاویر لگا کر صحافیوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے، سوشل میڈیا ٹرولنگ نہیں اچھے مقاصد کیلئے استعمال ہوناچاہیے ۔ الیکشن میں شکایات بھی ہوتی ہیں ہم شکایات پربات کرتے ہیں لیکن پارلیمانی پراسیس کوچلنے دینا چاہتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے الیکشن میں شازیہ مری پراسیس کو ہوتی ہیں کرتے ہیں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔