زیادہ استعمال پر زیادہ فیس، اسنیپ چیٹ کی صارفین کے لیے نئی پالیسی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسنیپ چیٹ نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ ان صارفین سے فیس وصول کرے گی جو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو ’میموریز‘ فیچر میں 5 جی بی سے زیادہ ذخیرہ کریں گے، اسنیپ چیٹ یہ پالیسی دنیا بھر میں نافذ کی جارہی ہے جس کے تحت صارفین کو اضافی اسٹوریج کے لیے سبسکرپشن فیس دینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
کمپنی کے مطابق 100 جی بی اسٹوریج کے لیے بیس پیکج 1.
اسنیپ چیٹ کا کہنا ہے 2016 میں میموریز فیچر متعارف ہونے کے بعد اب تک ایک ٹریلین سے زائد یادیں (Memories) محفوظ کی جاچکی ہیں۔ یہ فیچر صارفین کو 24 گھنٹے بعد غائب ہونے والے پوسٹس کو مستقل محفوظ رکھنے اور بعد میں دوبارہ شیئر کرنے کی سہولت دیتا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ پے ماڈل پر منتقلی سے اس فیچر میں مزید سرمایہ کاری ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسنیپ چیٹ کا اہم فیچر، صارف بحفاظت گھر پہنچنے کی اطلاع دوستوں کو دے سکے گا
کمپنی نے تسلیم کیا کہ مفت سے فیس والے ماڈل میں تبدیلی آسان نہیں، مگر اس نے کہا کہ ہیوی یوزرز کے لیے یہ اخراجات ’قابلِ قدر‘ ثابت ہوں گے۔ اسنیپ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صارفین متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی میموریز کا ڈیٹا 5 جی بی سے کم ہے۔
اسنیپ چیٹ کے اس فیصلے پر آن لائن تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ ان کے پاس سالوں کا ڈیٹا محفوظ ہے اور نئی پالیسی سے انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ ناقدین نے اسنیپ پر ’لالچ‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خودکشی اور نقصان دہ مواد کی روک تھام: میٹا کا ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ سے تعاون کا اعلان
یہ قدم اسنیپ چیٹ کی جانب سے مزید پے سروسز متعارف کرانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے لینز پلس سبسکرپشن 9 ڈالر ماہانہ پر متعارف کرائی تھی۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں اسٹوریج کے لیے فیس لینے کا رجحان ناگزیر ہے کیونکہ آج کل صارفین پوسٹ کم مگر ڈیٹا زیادہ محفوظ کرتے ہیں۔
اسنیپ چیٹ نے اپریل میں بتایا تھا کہ اس کے ماہانہ ایکٹو صارفین کی تعداد 900 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اربوں صارفین کے ساتھ اس میدان میں آگے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسنیپ چیٹ ڈیٹا زیادہ فیس سبسکرپشن فیس میموری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسنیپ چیٹ ڈیٹا زیادہ فیس سبسکرپشن فیس
پڑھیں:
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے اسکائی47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کا افتتاح کردیا
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسکائی47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کا افتتاح کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کو ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ڈیٹا سینٹر کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
اسکائی47 ڈیٹا سینٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی جانب اہم پیشرفت ہے، ڈیٹا سینٹر مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید ترین ڈیٹا سینٹر متاثر کن ہے، وزیراعظمڈیٹا سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جدید ترین ڈیٹا سینٹر متاثر کن اور قابل تحسین ہے، عظیم منصوبے کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے، منصوبہ انتہائی مختصر مدت میں غیر معمولی عزم، پختہ یقین، اعلیٰ مہارت سے مکمل کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی بصیرت افروز قیادت، شراکت دار زیڈ ٹی ای کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، معرکہ حق میں کامیابی ملکی تاریخ کا عظیم ترین لمحہ تھا، مشکلات اور چیلنجز کا امید، حوصلے سے مقابلہ کریں تو معرکہ حق جیسے تاریخی کارنامے جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت ایسے عظیم منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیتی ہے، متحد ہو کر کام کریں تو کوئی ہدف ناقابل حصول نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسکائی47 جیسے منصوبے پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہیں، قوم کو اسکائی 47 جیسا تحفہ دینے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشکور ہوں، منصوبہ ملک کو ناقابل تسخیر سیکیورٹی فراہم کرے گا۔
ڈیٹا سینٹر پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز، شزا فاطمہوفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے ڈیٹا سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز ہے، آج ایک نئے معاشی دور کے دروازے کھل رہے ہیں، ہم اپنے وسائل اور افرادی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیٹا کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، مصنوعی ذہانت کو حقیقی معاشی قدر میں ڈھالنے کی صلاحیت ہے، ڈیٹا سے حاصل ہونے والی بصیرت مستقبل کی حقیقی معاشی طاقت ہے، مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ محفوظ، کم لاگت اور مؤثر استعمال پر منحصر ہوگی۔