سندھ حکومت کی قدرتی آفات کے دوران ریلیف سرگرمیوں کی تفصیلات جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات نے صوبائی (بارش و سیلاب ایمرجنسی) مانیٹرنگ سیل، سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال کے دوران جاری ریلیف سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک کل 198,407 افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے 115,318 اپنے آبائی مقامات پر واپس جا چکے ہیں۔ صوبے بھر میں 528 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جبکہ 119 میڈیکل کیمپس میں 151,604 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ 100 لائیو اسٹاک کیمپس بھی قائم کیے گئے جن میں 500,173 جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور 1,769,162 جانوروں کا علاج و ویکسی نیشن کی گئی۔حکومت سندھ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی بحران کے وقت عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ تمام سرکاری ادارے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے24 گھنٹے سرگرم عمل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔