پنجاب حکومت پختونخوا کی نقل کرتی ہے، صوبائی مشیر کے پی کے کا مریم نواز کے بیانات پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پشاور:
مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم نے مریم نواز کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کی نقل کرتی ہے۔
اپنے بیان میں مزمل اسلم نے کہا کہ اگر واقعی مریم نواز قرض نہیں لینا چاہتیں تو یہ اچھی بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پنجاب کے سیلاب متاثرین کو کب سے رقم ملنا شروع ہوگی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت کو اب تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ ہی معلوم نہیں، تو متاثرین تک مالی امداد کیسے پہنچے گی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت اکثر خیبرپختونخوا کے منصوبوں اور خودداری کی نقل کرتی ہے، لہٰذا خیبرپختونخوا کی طرح تین ہفتوں میں سیلاب متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی پالیسی بھی اپنا لے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بقول مری سے آگے خیبرپختونخوا ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کا حصہ نہیں، حالانکہ مری مال روڈ پر انگریز دور کے بعد ایک اینٹ بھی نہیں لگی، جب کہ نتھیا گلی میں 12 ارب روپے کی لاگت سے ہلٹن ہوٹل تعمیر کیا جا چکا ہے۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ نتھیا گلی میں ایک سال میں ایک کروڑ سیاح آئے، جب کہ مری میں ایسا کوئی ریکارڈ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے بھی آرام کے لیے مری کے بجائے نتھیا گلی کا انتخاب کیا۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ مری کے پاس اپنا پانی تک نہیں اور وہ خیبرپختونخوا سے پانی لیتا ہے، جب کہ پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے 64 ارب روپے پانی کے بل کی مقروض ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پنجاب حکومت واقعی خودداری دکھانا چاہتی ہے تو خیبرپختونخوا کے پانی کے واجبات فوری ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ پنجاب حکومت مریم نواز نے کہا کہ کہ مری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔