اسرائیل کے خلاف مسلسل بین الاقوامی بحری مزاحمت
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سب جانتے تھے کہ فریڈم فلوٹیلا کولیشن ( ایف ایف سی ) کے زیرِ اہتمام سمود فلوٹیلا کی پینتالیس کشتیوں میں سوار چھیالیس ممالک کے چار سو ستانوے رضاکار فاقہ زدوں کے لیے خوراک و طبی سامان لاد کر اکتیس اگست کو اسپین ، اٹلی ، یونان اور تیونس سے غزہ تک لگ بھگ ایک ماہ کا سفر مکمل نہیں کر سکیں گے۔
سب جانتے تھے اس قافلے میں ماحولیاتی رہنما گریٹا تھنبرگ ، نیلسن منڈیلا کے پوتے مانڈلا ، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان ، لاہور کے شہری عزیز نظامی ، یورپی پارلیمنٹ کی فرنچ رکن ریما حسن ، بارسلونا کے سابق مئیر ایڈا کولائیو ، یہودی سیاسی ایکٹوسٹ ڈیوڈ ایڈلر کے علاوہ بتیس صحافی ، متعدد فن کار ، سماجی شخصیات اور انسانی حقوق کے کارکن دورانِ سفر دھمکائے جائیں گے اور پھر ہتھکڑیاں پہنا کے اسرائیل لے جائے جائیں گے اور ڈی پورٹ کر دیے جائیں گے۔ کچھ کشتیاں یا تو ڈبو دی جائیں گی ورنہ ضبط ہو جائیں گی۔سو یہی ہوا۔مگر دو کشتیاں مکینو اور مارنیٹی اسرائیلی بحریہ کو جل دے کر غزہ کی سمندری حدود میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں اور ساحل سے کچھ ہی پرے اسرائیلی کمانڈوز کے قابو میں آئیں۔
سب جانتے ہیں کہ ایسی مہمات کا مقصد منزل تک کامیابی سے پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ ذرایع ابلاغ کی زینت بن کر عالمی ضمیر کو ہلکا سے جھنجوڑنا ، ریاستی منافقتوں کو بے نقاب کرنا اور ظالم کے گرد ایک اور سوالیہ نشان کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام نہ پہلی بار ہوا نہ آخری بار۔البتہ دو ہزار آٹھ سے اب تک غزہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی یہ اڑتیسویں اور سب سے بڑی عالمی کوشش تھی۔
تین ماہ قبل جون میں بھی سسلی سے میڈیلین نامی کشتی کے ذریعے گریٹا تھنبرگ ، یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن اور الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض سمیت سات ممالک کے بارہ رضاکاروں نے غزہ پہنچنے کی کوشش کی مگر انھیں ایک سو پچاسی کیلومیٹر پرے ( سو ناٹیکل میل ) بین الاقوامی سمندر میں ہی اسرائیلی کمانڈوز نے حراست میں لے لیا۔انھیں ڈی پورٹ کرنے سے پہلے غزہ سے تیس کیلومیٹر دور اسرائیلی شہر اشدود کی جیل میں رکھا گیا۔
غزہ کا بحری ، بری ، فضائی محاصرہ دو ہزار سات سے جاری ہے۔اس غیر قانونی محاصرے کو توڑنے کی پہلی بین الاقوامی کوشش دو ہزار آٹھ میں ہوئی جب فری غزہ موومنٹ نامی تنظیم کی ایک کشتی اسرائیلی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔فری غزہ موومنٹ نے دو ہزار سولہ تک وقتاً فوقتاً اکتیس کشتیاں روانہ کیں اور ان میں سے پانچ محاصرہ توڑنے میں کامیاب رہیں۔
مئی دو ہزار دس میں ترک امدادی تنظیم ہیومینٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن ( آئی ایچ ایچ ) نے چھ سو بین الاقوامی رضاکاروں کو ’’ ماوی مرمرا ‘‘ نامی ایک بڑے امدادی بحری جہاز کے ذریعے ترکی سے غزہ کے سفر پر روانہ کیا مگر اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کی حدود میں داخلے سے بہت پہلے ہی جہاز پر حملہ کردیا۔اس کارروائی میں دس رضاکار شہید اور لگ بھگ ڈیڑھ سو زخمی ہوئے۔
اس المیے کے ردِعمل میں ترکی نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات معطل کر دیے۔حسبِ معمول اسرائیل پر بین الاقوامی لعن طعن بھی ہوئی اور حسبِ عادت اسرائیل چکنا گھڑا ثابت ہوا۔اسرائیل نے تین برس بعد دو ہزار تیرہ میں اپنی ’’ آپریشنل غلطی ‘‘ پر ترکی سے معذرت کی۔ترکی نے کارروائی میں شریک اسرائیلی کمانڈوز پر ’’ غیر حاضری ‘‘ میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلا کے علامتی سزائیں سنائیں اور اپنا غصہ ٹھنڈا کیا۔شہدا اور زخمیوں کے لیے ہرجانے کی دو طرفہ بات چیت آج پندرہ برس بات بھی معلق ہے۔
دو ہزار گیارہ میں فریڈم فلوٹیلا دوم کے نام سے دس کشتیوں میں تین سو سے زائد رضاکاروں نے غزہ پہنچنے کی کوشش کی مگر اسرائیل کے بے پناہ سفارتی دباؤ کے سبب یونان نے اس فلوٹیلا کو منظم ہونے کی سہولت فراہم کرنے سے معذرت کر لی۔کچھ کشتیوں میں تکنیکی خرابیاں ڈلوا دی گئیں۔صرف ایک بڑی فرانسیسی کشتی ’’ ڈگنٹی الکراما ‘‘ جس میں سترہ رضاکار سوار تھے اسے مصر جانے کے وعدے پر بندرگاہ چھوڑنے کی اجازت ملی مگر مصری حدود میں پہنچتے ہیں کشتی والوں نے اعلان کیا کہ وہ سمت بدل کر غزہ جا رہے ہیں۔چنانچہ اسرائیلی کمانڈوز نے کشتی اپنی تحویل میں لے لی اور مسافروں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
جون دو ہزار پندرہ میں فریڈم تھری کے نام سے سویڈش جہاز ماریانا آف گوتھنبرگ غزہ کی جانب روانہ ہوا۔اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلی کوششوں کے ساتھ ہوا تھا۔اسرائیل نے اس کی سواریوں کو بھی چھ دن قید میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا۔
جولائی دو ہزار اٹھارہ میں پھر چار بڑی کشتیاں (العودہ ، فریڈم ، مائی ریڈ اور فلسطین) فیوچر آف فلسطین فلوٹیلا کے نام سے روانہ ہوئیں۔اس بار اسرائیلی کمانڈوز نے امدادی کارکنوں کوگرفتار کر کے زد وکوب بھی کیا۔
اس سال مئی میں لگ بھگ تیس ترک اور آزری رضاکاروں نے کانشئیس ( ضمیر ) نامی کشتی میں مالٹا سے غزہ پہنچنے کی کوشش کی مگر اسرائیلی ڈرونز نے اس کشتی پر مالٹا کی سمندری حدود میں ہی دو حملے کیے۔کشتی کو نقصان پہنچا۔کچھ رضاکار زخمی بھی ہوئے۔
اسرائیل کا دعوی ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت ہے۔مگر ماہرینِ قانون اس دعوی کے بودے پن پر حیران ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ غزہ اسرائیل کا نہیں فلسطینی اتھارٹی کا علاقہ ہے اور اتھارٹی نے کبھی بھی اس ناکہ بندی کی اجازت نہیں دی لہٰذا اس کے قانونی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسرائیل نے اب تک جتنے بھی امدادی بیڑوں کو روکا ، حملہ کیا یا مسافروں کو یرغمال بنایا۔یہ سب کاروائی اسرائیل کی بحری حدود میں نہیں بلکہ کھلے بین الاقوامی سمندر میں ہوئی۔ لہٰذا ان کارروائیوں پر قزاقی کا بین الاقوامی قانون لاگو ہوتا ہے۔
ویسے بھی ہر ملک کی سمندری حدود بارہ ناٹیکل میل ( بائیس کلومیٹر ) طے ہے۔جب کہ دو سو ناٹیکل میل ( تین سو ستر کلومیٹر ) تک کا سمندر ماہی گیری ، کانکنی اور دیگر معاشی مقاصد کے لیے تو استعمال ہو سکتا ہے مگر اس میں بھی بحری ٹریفک روکنے کا حق کسی بھی ریاست کو نہیں ۔
سان ریمو بین الاقوامی کنونشن کے مطابق کسی بھی آبادی تک خوراک اور دیگر ضروری امداد کو بحری ناکہ بندی کے ذریعے روکنا بین الاقوامی جرم ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قرار داد ستائیس سو بیس اور ستائیس سو اٹھائیس کے تحت تمام رکن ممالک پابند ہیں کہ انسانی امداد کی ترسیل میں ہرگز رکاوٹ نہ ڈالیں۔اسرائیل بھی اگرچہ اقوامِ متحدہ کا رکن ہے مگر جس طرح وہ ہر تنظیم ، عدالت اور قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ایسا رویہ بھی قابلِ رشک و حسد ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی کمانڈوز نے بین الاقوامی ڈی پورٹ کر ناکہ بندی کے لیے غزہ کی
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ