امریکا کا کیریبین سمندر میں چوتھا فضائی حملہ، 4 مبینہ منشیات فروش ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے کیریبین سمندر میں چوتھا مہلک فضائی حملہ کیا ہے، یہ حملہ مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی ایک کشتی پر کیا گیا۔
ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جمعے کو ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دکھایا گیا کہ وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک تیز رفتار کشتی پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد کشتی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ
وزیر دفاع نے کہا کہ اس کارروائی کی براہِ راست ہدایت انہوں نے دی تھی۔ ان کے مطابق کشتی پر سوار 4 افراد، جنہیں انہوں نے ‘نارکو دہشت گرد’ قرار دیا، ہلاک ہوگئے جبکہ امریکی افواج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ کشتی بین الاقوامی پانیوں میں وینزویلا کے قریب سفر کر رہی تھی اور امریکا میں منشیات پہنچانے کی کوشش میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی عوام پر منشیات کے حملے ختم نہیں ہو جاتے۔
یہ تازہ حملہ پچھلے ماہ کیے گئے 3 فضائی حملوں کے بعد ہوا ہے۔ پہلا حملہ 2 ستمبر کو ہوا تھا جس میں 11 افراد مارے گئے تھے۔ دوسرا اور تیسرا حملہ بالترتیب 15 اور 19 ستمبر کو کیا گیا جن میں 3، 3 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کارروائی کی توثیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشتی اتنی منشیات سے بھری ہوئی تھی جو 25 سے 50 ہزار افراد کو ہلاک کرنے کے لیے کافی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے بحری جہاز تعینات کردیے
تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ منشیات اسمگلنگ کو روایتی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر میں مسلح حملہ تصور نہیں کیا جاتا۔
ان فضائی حملوں کے بعد وینزویلا کی حکومت نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور امریکی اقدامات کو غیر اخلاقی فوجی دھمکی قرار دیتے ہوئے ساحلی علاقوں میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ منشیات فروش وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ منشیات فروش وینزویلا وزیر دفاع کشتی پر کیا ہے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔