شکارپور میں خوفناک حادثہ، تیز رفتار ٹرک نے سوئے مزدوروں کو روند دیا، 7 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شکارپور کے قریب قومی شاہراہ بائی پاس پر افسوسناک حادثے نے کئی گھروں کا سکون چھین لیا۔
تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سوئے ہوئے مزدوروں کو روند ڈالا۔ دل خراش واقعے میں 7 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ 6 افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے دیگر شہروں کے اسپتالوں میں ریفر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق حادثے کا شکار افراد محنت کش تھے جو دن بھر کام کے بعد سڑک کنارے آرام کر رہے تھے۔ اسی دوران سبزی سے لدا ایک تیز رفتار ٹرک بے قابو ہوکر مزدوروں پر چڑھ دوڑا۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور شہری بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس حکام نے جائے وقوع پر پہنچ کر ٹرک کو تحویل میں لے لیا جبکہ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آنے کا امکان ظاہر کرتا ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی وجوہات سامنے آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔