شعیب ملک اور ثنا جاوید کی علیحدگی کی افواہیں گردش کرنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سابق کرکٹر شعیب ملک اور ان کی تیسری اہلیہ اداکارہ ثنا جاوید ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بن گئے ہیں، جہاں ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں۔
حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شعیب ملک اور ثنا جاوید کو ایک عوامی تقریب میں موجود دیکھا گیا، تاہم وہ ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھے اور کم بات چیت کرتے نظر آئے۔ اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر “ایک اور بریک اپ راستے میں؟” جیسے تبصرے تیزی سے پھیلنے لگے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شعیب ملک اور ثنا جاوید کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے اور امکان ہے کہ یہ رشتہ بھی جلد ختم ہوجائے گا۔ تاہم اب تک دونوں میں سے کسی نے بھی ان خبروں پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں شعیب اور ثنا نے انسٹاگرام پر علیحدہ علیحدہ تصویریں شیئر کیں جو بظاہر ایک ہی غیر ملکی مقام پر لی گئی لگتی ہیں۔ ان تصاویر میں دونوں کو سیاہ اور سفید لباس میں دیکھا گیا، جس سے بعض صارفین نے اندازہ لگایا کہ وہ اکٹھے وقت گزار رہے ہیں۔
ان افواہوں نے بھی اس جوڑی کے مداحوں کو الجھن میں مبتلا کر دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا شعیب اور ثنا کے درمیان واقعی اختلافات موجود ہیں یا یہ صرف بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شعیب ملک اور ثنا جاوید اور ثنا
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔