پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا اور نہ آئندہ کرے گا، سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
ملکی سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا اور نہ آئندہ کرے گا، کشمیر اور فلسطین پر ہمارا موقف تبدیل نہیں ہورہا دونوں کو خود ارادیت درکار ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک کی داخلی صورتحال پر سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو سیاسی جماعتوں نے سیاسی طور پر حل کرلیا ہے، سب کو اپنی اپنی جگہ کام کرنا چاہیے، ملکی سلامتی کے لئے آرمی کے جوان اپنے خون سے قیمت ادا کرتے ہیں، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اگر کشمیر میں امن وامان کے حوالے سے ذرا سا بھی انتشار ہوتا ہے تو بھارت اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
پسنی میں امریکا کے بندرگاہ کے قیام سے متعلق رپورٹ سے متعلق سوال کیا گیا تو کہا گیا کہ ہر ملک کے اپنے مفاد ہوتے ہیں، امریکا کے اپنے، چین کے اپنے اور ہمارے اپنے ہیں، ہمارے اپنے مفاد سب سے اہم ہیں، ہم چاہتے ہیں ہمارے لوگ خوشحالی کی طرف آئیں، پاکستان میں مائن اینڈ منرلز یعنی آئل، گیس، گرینائٹ، ماربل وغیرہ سب موجود ہیں ہمیں انہیں ایکسپلور کرنا ہے، بندرگاہ دینے سے متعلق مختلف تجاویز سامنے آتی رہی ہیں مگر ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے۔
سوال پوچھا گیا کہ کیا پسنی کی بندرگارہ امریکا کو دینے پر سیکیورٹی امریکا کی اپنی ہوگی؟ اس پر جواب دیا گیا کہ چاہے امریکا ہو یا چین، سیکیورٹی دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، پسنی بندرگارہ کمرشل جگہ ہے اور وہاں ہماری اپنی سیکیورٹی ہے اور سرمایہ کاروں کو ہم سکیورٹی دے رہے ہیں۔
سوال ہوا کہ چائنیز پر حملے ہوئے کیا ان کی سکیورٹی آئی؟ اس پر سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ سوالات قبل از وقت ہوتے ہیں سرمایہ کار آتا ہے تو وہ اپنی سیکیورٹی مانگتا ہے، پاکستان میں سرمایہ کار کمپنیاں آئی ہیں افواج پاکستان سب کو سیکیورٹی دے رہی ہے، ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاری کا بہترین ماڈل بنایا ہے، ہماری حکومت اور قیادت مل کر کام کر رہی ہے، افواج پاکستان اور حکومت میں کوئی گیپ نہیں ہے، پسنی بندرگاہ پر سیکیورٹی ہماری ہے، سیکیورٹی کے انتظامات ریاست پاکستان خود کرتی ہے، ہم سیکیورٹی دے رہے ہیں اور سیکیورٹی کے لئے کسی کا کندھا استعمال نہیں کرتے، ایران نے کچھ کیا تو ہم نے اس کا جواب دیا، بھارت نے کیا تو ہم نے اس کا بھرکس نکال دیا، غزہ میں دیکھ لیں جب اپنی سیکیورٹی نہ ہو تو اس طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
غزہ میں پاکستانی دستے بھیجنے کے سوال پر سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فلسطین بالکل ایک اہم مسئلہ ہے نہ تو پاکستان اسرائیل کو تسلیم کررہا ہے نہ کیا ہے اور نہ کریں گے، ابراہم ایکارڈ محض ایک ایجنڈا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق پاکستان کے اندر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، کشمیر اور فلسطین ہمارے لیے بہت اہم ہیں ہم بند کمروں میں کوئی بات چیت نہیں کرتے مگر وہ دن بھی چلے گئے جب ہم عوام کے سامنے سب چیزیں لے کر آتے ہیں، سب دیکھ لیں ہماری فلسطین پر پالیسی بالکل واضح ہے، کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر ہمارا موقف بالکل تبدیل نہیں ہورہا ہے، دونوں کو حق خودارادیت چاہیے ہے ہم بالکل ان کے ساتھ ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری کور کمانڈرز، فارمیشن کمانڈرز جو بھی بریفنگز ہوتی ہیں آرمی چیف اس میں مسلسل ایک بات کرتے ہیں اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کررہا ہے اور وہاں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اسرائیل وہاں کے لوگوں کو سمندر بحر قلزم کا کھارا پانی پینے پر مجبور کررہا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہم یا انسانی حقوق کے لوگ یہ سب چیزیں نہیں دیکھ رہے، پورے یورپ میں لاکھوں لوگ باہر نکلے ہیں، اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ہیں سب کو اس صورتحال کو روکنا چاہیے، پاکستان نے بھی اس ظلم کو روکنے کے لئے ایک قدم اٹھایاہے تاکہ اس نسل کشی کو ہم روک سکیں، حماس اور فلسطین کے عوام جو چاہیں گے وہی ہونا چاہیے، مفروضوں سے ہمیں بچنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع نے اسرائیل کو تسلیم پر سیکیورٹی اور فلسطین ہے اور
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔