امریکی معاہدے کو بے نقاب نہ کرنا اسلام کی توہین ہے، علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعة المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر کا کہنا تھا کہ حماس فلسطین کی آزادی کی علامت، اسے معاہدے سے باہر رکھنا زیادتی ہے، انور السادات کے بعد حماس نے طوفان الاقصی آپریشن سے مسئلہ فلسطین کو زندہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعة المنتظر ماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان دنیا میں باعظمت ہو رہے ہیں، امریکہ جیسے ملک کا صدر پاکستان کے سربراہ سے ملاقات کو اپنے لئے اعزاز قرار دے رہا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم میں وہ شعور نہیں کہ ہم ٹرمپ کے شیطانی معاہدے کو رد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء میں انورالسادات نے فلسطین کاز کو زندہ کیا اور اب حماس نے7 اکتوبر 2023 کے طوفان الاقصی آپریشن سے زندہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سید ہیں، انہیں اپنے خاندان کا خیال رکھنا چاہیے، کسی سے نہ ڈریں۔ حقیقت کو سب کے سامنے لے کر آئیں، اتنی بڑی غلطیاں کرنیوالے امریکہ کے سامنے معاہدے کو بے نقاب نہ کرنا اسلام کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر دنیا کے سامنے واضح کریں کہ حماس فلسطین کی آزادی کی علامت ہے، آزادی کی جنگ لڑنے والے حماس کو اس معاہدے سے باہر رکھنا زیادتی ہے۔ تمام مسلمان قوتوں کو حماس کھل کر ساتھ دینا چاہیے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ حماس کی بہادری اور فلسطینی عوام کی قربانیوں کی برکت کی وجہ سے آج مسئلہ فلسطین دنیا میں نمایاں ہوا ہے۔ برطانیہ سمیت اکثریت نے فلسطین کو قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے میں اسرائیل کو خلاف حقیقت کلین چٹ دی گئی ہے، اور مسئلے کی جڑ حماس کو قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی عظمت ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے، اب یہ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ امریکہ کے 20 نکاتی منصوبے میں جتنے غلط نکات ہیں ان کو نمایاں کرتے۔ اسرائیل کے ظلم و بربریت کیخلاف اور امریکہ کے سامنے بات کرنے کی طاقت صرف پاکستان میں ہے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ حماس نے سات اکتوبر کی جنگ آزادی کے لیے لڑی ہے اور ابھی تک قائم ہے، دو سال میں حماس کو کوئی زیر نہیں کر سکا، نہ ہی اسرائیلی یرغمالی بازیاب کروائے جا سکے ہیں اور نہ ہی غزہ پر قبضہ کر سکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے سامنے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔