وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی اعلیٰ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اشتعال انگیز بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دفعہ بھارت ان شاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کے بیانات اپنی خاک میں ملی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اتنی فیصلہ کن شکست کے بعد جس کا اسکور 0-6 رہا ہو اگر دوبارہ کوشش کی تو اسکور پہلے سے کہیں بہتر ہوگا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جس طرح بھارت میں عوامی رائے تاریخ کی بدترین شکست کے بعد حکومت کے خلاف ہوئی اور مودی اور اس کا ٹولہ جس طرح اپنی ساکھ کھو بیٹھا ، اس کا پریشر لیڈر شپ کے بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اللہ کے نام پہ بنی ریاست ہے، ہمارے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں، اس دفعہ بھارت ان شاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا، اللہ اکبر۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی سکیورٹی اداروں کے جارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹ کیے ہیں، یہ غیر ذمے درانہ بیانات جارحیت کے لیے من گھڑت بہانوں کی نئی کوشش ہے، ایسے بیانات سے جنوبی ایشیا میں امن کو سنگین خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی دھمکیاں گیدڑ بھپکیوں کے سوا کچھ نہیں ہیں، مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد