بھارتی کمپنیاں ادویات کے نام پر زہر بیچنے لگیں، مزید 9 بچے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بھارت میں ایک بار پھر ادویات کی ناقص تیاری انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن گئی۔ ریاست مدھیہ پردیش میں مبینہ طور پر مضرِ صحت کھانسی کا شربت پینے سے 9 معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے۔
لیبارٹری تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ شربت میں ایسے کیمیکل اجزا شامل تھے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد بھارت کی 6 ریاستوں میں 19 دوا ساز کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
خطرناک رجحان، جو رکنے کا نام نہیں لے رہا
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب بھارتی دوا ساز اداروں پر غیر معیاری یا زہریلی ادویات تیار کرنے کا الزام لگا ہو۔
2022 میں مغربی افریقی ملک گیمبیا میں بھارت سے درآمد شدہ کھانسی کا شربت پینے سے 70 بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔
اسی طرح انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی بھارتی ادویات کے استعمال سے درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔
عالمی سطح پر خدشات بڑھنے لگے
ان واقعات کے بعد نہ صرف بھارت میں بلکہ دنیا بھر میں بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے معیار اور نگرانی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب دوا کے نام پر زہر بیچا جائے اور جانیں ضائع ہوں، تو صرف تحقیقات کافی نہیں، بلکہ سخت کارروائی اور عالمی سطح پر نگرانی کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔