WE News:
2026-06-03@08:32:24 GMT

55 سال سے سلائی مشینوں کی مرمت کرنے والے کاریگر، رحیم بخش

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

تحریر: سفیر احمد

راولپنڈی کے 150 سال پرانے بازار کے قریب، قدیم قلعہ کے دامن میں 75 سالہ کاریگر رحیم بخش گزشتہ 55 برسوں سے سلائی مشینوں کی مرمت کر رہے ہیں۔ یہ دکان ان کے استاد نے شروع کی تھی، اور اب وہ اپنی مہارت اور تجربے سے نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی مشینیں بھی ٹھیک کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پرانی مشینیں مضبوط اور دیرپا ہوتی ہیں، اسی لیے آج بھی لوگ نئی مشینوں کے بجائے انہیں ٹھیک کروا کر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہر مرمت شدہ مشین کو گارنٹی کے ساتھ واپس کرتے ہیں، اور یہی ان کے کام پر گاہکوں کے اعتماد کی بڑی وجہ ہے۔

ایک گاہک محمد بلال نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پرانی سلائی مشین ان کے پاس ٹھیک کروائی تھی، جو آج بھی بہترین کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ دکاندار نہ صرف مہارت رکھتے ہیں بلکہ ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔

رحیم بخش کا کہنا ہے کہ نئی نسل میں یہ ہنر سیکھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ آسان ذرائع آمدن کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پیشہ آج بھی عزت والا اور پائیدار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “جب کوئی سلائی مشین ٹھیک ہو جاتی ہے تو مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ہر کاریگر کو اپنے کام سے محبت کرنی چاہیے، کیونکہ جو اپنے کام سے محبت کرتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔”

یوں، ان کی دکان صرف سلائی مشینوں کی مرمت کی جگہ نہیں بلکہ ایک تاریخ اور اعتماد کی علامت بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بازار راولپنڈی سلائی مشین مارکیٹ مشین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: راولپنڈی سلائی مشین مارکیٹ سلائی مشین کرتے ہیں

پڑھیں:

پنجاب حکومت نے پنجاب الیکٹرک سٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی حتمی منظوری دیدی

میانوالی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جون2026ء) پنجاب حکومت نے نجی سطح پر بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی نگرانی اور الیکڑک سٹی ڈیوٹی کی وصولی کیلئے پنجاب الیکٹرک سٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی حتمی منظوری دے دی ہے، نئے قوائد وضوابط کے نفاذ کے بعد خود بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی اور کمرشل یونٹس بھی حکومتی ریگولیٹری نظام کے دائرہ کار میں آ جائیں گے، واپڈا ذرائع کے مطابق نئے قوائد کے مطابق 500 کے وی سے زائد صلاحیت رکھنے والے نجی پاور جنریشن یونٹس کو رجسٹریشن کرانا لازمی ہو گا، ایسے یونٹس پر خود پیدا کی جانے والی بجلی کے استعمال ہر 4 پیسے فی یونٹ اضافی الیکٹرک سٹی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جس سے پنجاب حکومت کو سالانہ تقریبا 30 کروڑ روپے سے زائد اضافی امدن متوقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت نے پنجاب الیکٹرک سٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی حتمی منظوری دیدی
  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید