راولپنڈی: مزدور کو کام کے بہانے ساتھ لے جاکر گردہ نکالے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں کام کے بہانے ساتھ لے کر مزدور کا گردہ نکالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعہ تھانہ چکلالہ راولپنڈی کی حدود میں دو سال قبل پیش آیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ مزدور زین علی کی درخواست پر درج کیا گیا۔ مقدمے میں جمشید عرف ببلی، عرفان، امین،نامعلوم ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر اور طبی عملے کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان مزدور کو کام کے بہانے گاڑی میں ساتھ لے گئے، جہاں اسے جوس پلا کر بے ہوش کیا گیا اور آپریشن کے ذریعے بائیں جانب سے گردہ نکال لیا گیا۔ زین علی کے مطابق پانچ روز بعد ہوش آیا تو وہ امین کے گھر موجود تھا، جس نے دوا لینے کا کہتے ہوئے بتایا کہ کام کے دوران گرنے کی وجہ سے مجھے پیٹ میں بائیں جانب درد ہے۔
بعدازاں والدین کو بلایا گیا جو اسے لاہور لے گئے۔لاہور میں ڈاکٹر نے معائنے کے دوران بتایا کہ اس کا گردہ نکال لیا گیا ہے۔ متاثرہ مزدور کے مطابق مکمل علاج کروانے کے بعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
عدالتی حکم پرطبی معائنہ بینظیر بھٹو اسپتال میں کروایا گیا، جہاں رپورٹ میں گردہ نکالے جانے کی تصدیق ہوئی،پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک