کراچی: پٹاخوں کے گودام میں دھماکہ، اہم انکشافات سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کا معاملہ، جاں بحق نوجوان کی والدہ کی پٹاخوں کے غیر قانونی گودام کی منتقلی کی درخواست پرسماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی، ڈپٹی کمشنر جنوبی نےسندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کروادیا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی نے حادثے کے بعد قانونی دائرہ اختیار سے مطابق کارروائی کی۔ مذکورہ عمارت میں پٹاخوں کی دکان کا ابتدائی لائسنس اسسٹنٹ کمشنر کراچی کینٹ نے 1971 میں جاری کیا تھا۔ سول ڈیفنس کا جاری این او سی ریٹیل دکان تک محدود تھا۔ این او سی کے مطابق دکان میں 25 سے 30 کلوگرام پٹاخے رکھے جاسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی پٹاخہ گودام دھماکہ: مقدمہ درج، مالک گرفتار، بھائی مفرور
ڈی سی جنوبی کے مطابق این او سی کے برخلاف زائد مقدار میں دھماکا خیز مواد رکھنے سے دھماکے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ عدالتی حکم کے مطابق تمام دھماکا خیز مواد بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد سے تلف کردیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے پٹاخوں کے جاری تمام لائسنس اور این او سی منسوخ کردیے ہیں۔
ڈی سی جنوبی کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر صدر نے عمارت کے ڈھانچے کی جانچ کے لیے سی ای او کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کو خط لکھا ہے۔ مذکورہ عمارت کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں واقع ہے، معاوضے کی ادائیگی سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ہم نے اپنی سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی
عدالت نے پٹاخوں کی فیکٹری اور گودام علاقے سے منتقل کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے ڈی سی جنوبی کے جواب کے بعد درخواست نمٹا دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔