سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کا ایک اعلیٰ سطحی وفد کونسل کے اسپیکر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ کی زیر قیادت پیر کو اسلام آباد پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب معاہدہ کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا جا رہا ہے اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان طویل المدتی تزویراتی (اسٹریٹجک) اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ، سوشل میڈیا پر لوگوں کی خوشی دیدنی

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے پارلیمانی تعاون کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھلیں گے۔

اسپیکر آل الشیخ کا بیان

شوریٰ کونسل کے اسپیکر عبداللہ بن محمد آل الشیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات گہرے اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ دورہ شوریٰ کونسل، پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

اہم ملاقاتیں اور گفت و شنید

اسلام آباد میں قیام کے دوران اسپیکر آل الشیخ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا اور انہیں مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی جائے گی۔

سیاسی، معاشی و دفاعی تعاون میں وسعت

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی پر پاک سعودی تعاون پر اتفاق

دونوں ممالک نے ادارہ جاتی سطح پر اور عوامی روابط کے میدان میں تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی معاہدہ سعودی شوریٰ کونسل سعودی شوریٰ کونسل کے وفد کا دورہ پاکستان عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک سعودی معاہدہ سعودی شوری کونسل سعودی شوری کونسل کے وفد کا دورہ پاکستان عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ کے درمیان آل الشیخ

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے