ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، بھارتی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ایس جے شنکر نے کہا کہ ہمیں ایسی مفاہمتی زمین تلاش کرنی ہے، جہاں بھارت کی پالیسی حدود کا احترام ہو، مارچ سے ہی اس پر بات چیت جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے بیچ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ تجارتی معاہدے میں بھارت کی "لکشمن ریکھا" یعنی خودمختاری، قومی مفادات اور پالیسی حدود کا احترام کیا جانا لازمی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفاہمت کی بنیاد تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جے شنکر نے کوٹیلیہ اکنامک انکلیو میں "افراتفری کے دور میں خارجہ پالیسی کی نوعیت" پر ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے بھارت-امریکہ تجارتی تعلقات میں درپیش مسائل اور حل کی کوششوں پر تفصیل سے بات کی۔
ایس جے شنکر نے کہا کہ آج ہمارے امریکہ کے ساتھ کچھ مسائل ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تجارتی بات چیت میں کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، اور ایسا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے، ہندوستان پر ایک مقررہ ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ایک دوہرا ٹیرف ہے، جسے ہم عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم اسے انتہائی غلط سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیرف ہمیں روس سے خام تیل خریدنے کے لئے نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے روس کے ساتھ اس وقت ہمارے مقابلے میں ان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات اس وقت سے سخت تناؤ کا شکار ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ہندوستانی اشیاء پر محصولات کو دوگنا کرکے 50 فیصد کردیا تھا۔ اس میں ہندوستان کی روسی خام تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد ٹیرف شامل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ مہینے میں نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد، دونوں ممالک نے تجارتی معاہدے پر پیشرفت کی کوششیں دوبارہ شروع کی ہیں۔ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہمیں ایسی مفاہمتی زمین تلاش کرنی ہے، جہاں بھارت کی پالیسی حدود کا احترام ہو، مارچ سے ہی اس پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تجارتی مسائل کا تعلق باہمی تعلقات کے ہر پہلو سے نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس جے شنکر نے کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔