Juraat:
2026-06-03@04:50:20 GMT

حکومت کاجنرل عاصم ملک کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

حکومت کاجنرل عاصم ملک کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ

وزیراعظم کی کام جاری رکھنے کی ہدایت، شہباز شریف کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر بھی ہیں
نومبر کے بعد بطور ڈی جی آئی ایس آئی اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر خدمات انجام دیتے رہیں گے

وفاقی حکومت نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کرلیا جبکہ وزیراعظم نے انہیں خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک ک اپنی خدمات جاری رکھیں گے جبکہ وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کو خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔اس کے علاوہ لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک وزیراعظم کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر بھی ہیں اور وہ اس عہدے پر بھی کام جاری رکھیں گے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اپنے موجودہ عہدے پر خدمات جاری رکھیں گے۔انہیں ستمبر 2024 میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا۔اپریل 2025 میں حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر (این ایس اے) کا اضافی چارج بھی دیا تھا تاکہ قومی سلامتی کی پالیسی سازی اور اس کے عملی نفاذ میں مزید مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک پاکستان آرمی کے نہایت قابل اور پیشہ ور افسر مانے جاتے ہیں، جنہوں نے بلوچستان میں ایک انفنٹری ڈویژن اور جنوبی وزیرستان میں ایک انفنٹری بریگیڈ کی قیادت کی — وہ علاقے جو گزشتہ دو دہائیوں سے ملک کے سلامتی چیلنجز کے مرکز رہے ہیں لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک پاکستان ملٹری اکیڈمی کا سورڈ آف آنر حاصل کرنے والے افسر ہیں۔ یہ اعزاز ہر کورس کے بہترین کیڈٹ کو دیا جاتا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک امریکا کے فورٹ لیون ورتھ اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے گریجویٹ ہیں۔انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام محمد ملک کے صاحبزادے ہیں، جو 1990 کی دہائی میں پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈی جی ا ئی ایس ا ئی لیفٹیننٹ جنرل خدمات جاری

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت