Islam Times:
2026-06-03@01:43:49 GMT

طوفان الاقصیٰ کے دو سال

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

طوفان الاقصیٰ کے دو سال

اسلام ٹائمز: اس بات سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہیئے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ مزاحمتی محور کی جنگ برسوں پہلے شروع ہوچکی تھی اور طوفان الاقصیٰ اس جنگ کی چنگاری تھی، تاکہ اس راستے میں صیہونی محاذ کو مزاحمتی قوتوں کی طرف سے ایسی ضربیں لگائی جائیں، جس طرح وہ مزاحمتی بلاک کو مارتے رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اگر طوفان الاقصیٰ نہ ہوتا تو مزاحمتی محور کو انجانے میں پوری طرح سے دھچکا لگا ہوتا اور پچھلے دو سالوں میں جتنا نقصان ہوا ہے، اس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لڑائی جاری ہے اور مزاحمتی محور ابھی تک صیہونی حکومت کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے۔ مزاحمتی تحریک نے صیہونی حکومت کو ایک لمحہ کے لئے بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیا۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

آپریشن طوفان الاقصیٰ کو آج دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس دوران ہونے والی پیش رفت کے بعد اس آپریشن کے بارے میں بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ مذاکراتی عمل میں نئے حالات اور حماس کے ٹرمپ پلان کے ساتھ ابتدائی معاہدے نے یہ سوال مزید شدت سے اٹھایا ہے کہ کیا آپریشن طوفان الاقصیٰ فلسطین اور مزاحمتی محاذ کے مفاد کے لیے تھا یا نہیں۔؟ یہ سوال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، جب ہم غور کرتے ہیں کہ دو سال کی لڑائی کے بعد غزہ کے 70,000 سے زیادہ شہری شہید، 200,000 سے زیادہ زخمی اور غزہ کا 90% سے زیادہ تباہ ہوچکا ہے اور صیہونی حکومت نے عملی طور پر اس شہر کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مزید برآں، ایک اور نقطہ نظر سے، حزب اللہ، جو حماس کی حمایت میں اس جنگ میں داخل ہوئی، ستمبر 2024ء میں شدید ترین حملوں کا نشانہ تھی، جس کی انتہاء لبنانی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی شہادت پر منتج ہوئی۔ آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعض ناقدین کا دعویٰ ہے کہ 18 دسمبر 2024ء کو بشار الاسد حکومت کا زوال بھی اسی آپریشن کا نتیجہ تھا اور دمشق کا سقوط اور حزب اللہ پر حملے بھی اسی وجہ سے ہوئے ہیں۔ 7 اکتوبر کا آپریشن غلط حساب کتاب کا نتیجہ تھا، اس کو دو زاویوں سے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور اسے ایک مختلف زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کارروائی خطے کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ صیہونی حکومت کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کا ردعمل تھا اور حماس نے یہ اقدام خود کو بتدریج موت سے بچانے کے لیے کیا۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد صیہونی حکومت کی طرف سے کس قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور مزاحمتی قیادت کی حکومت کے ساتھ لڑائیوں کا تجربہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انہیں کس طرح کی مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دو دہائیوں کی جنگ اور اقتصادی ناکہ بندی کو برداشت کرنے کے بعد آہستہ آہستہ مرنے کے بجائے، حماس نے ایک جرات مندانہ اقدام کے ساتھ کھیل کے اصولوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور کم از کم اب تک، تمام تر مصائب کے باوجود، اس نے یہ مقصد حاصل کیا ہے اور مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

اب نہ صرف سماجی سطح پر، شمالی امریکہ سے لے کر مشرقی ایشیاء تک دنیا کے مختلف ممالک کی سڑکیں فلسطین کی حمایت میں مظاہروں کی آماجگاہ بن چکی ہیں، بلکہ یورپ کی کئی حکومتوں نے، جو صیہونی حکومت کے روایتی اتحادی ہیں، ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ اس حال میں ہے کہ 7 اکتوبر سے پہلے زیادہ تر ممالک صیہونی حکومت اور امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کی وجہ سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ دوسری طرف اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ صہیونی اب بھی طوفان الاقصیٰ کے مہلک نفسیاتی دھچکے سے متاثر ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے اور دشمن بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ طوفان الاقصی لاقصیٰ نے دنیا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کو اس جنگ کا انچارج متعارف کرایا ہے۔

فوجی اور سکیورٹی نقطہ نظر سے، طوفان الاقصیٰ فلسطینی سیاسی منصوبے کو بچانے کے لیے محض ایک خودکش کارروائی نہیں تھی، بلکہ حیرت ناک جارحیت سے پہلے ایک حملہ تھا۔ اگرچہ حماس کے عہدیداروں نے انٹرویوز میں اس بات پر زور دیا کہ صیہونی حکومت جلد از جلد حماس کی قیادت کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس تشخیص پر غزہ کے اندر فلسطینی اسلامی تحریک کے رہنماؤں نے تبادلہ خیال بھی کیا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ معاملہ غزہ اور حماس سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ صیہونی حکومت نہ صرف غزہ میں حماس کے تمام رہنماؤں کو قتل کرنے کی کوشش کر رہی تھی بلکہ لبنان میں حزب اللہ کو ایک مہلک دھچکے سے نمٹنے کے لیے ایک خاص لمحے کا انتظار کر رہی تھی۔

صہیونی چینل 12 پر پیجر آپریشن کے حوالے سے نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم کے مطابق ستمبر 2023ء میں آپریشن طوفان الاقصیٰ کے آغاز سے کم از کم ایک ماہ قبل متعلقہ آلات لبنان میں داخل کئے گئے تھے اور یہ سارا آپریشن کئی مہینوں تک حکومت کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ایجنڈے پر تھا۔ دوسرے لفظوں میں، اگر حزب اللہ غزہ کے حمایتی محاذ میں داخل نہ ہوتی تو بھی مجرم اسرائیلی حکومت کے حملے سے محفوظ نہ رہتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ متاثرہ وائرلیس فون کی موجودگی کے پیش نظر زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی جو بعد میں پیش آئی۔

اس بات سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہیئے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ مزاحمتی محور کی جنگ برسوں پہلے شروع ہوچکی تھی اور طوفان الاقصیٰ اس جنگ کی چنگاری تھی، تاکہ اس راستے میں صیہونی محاذ کو مزاحمتی قوتوں کی طرف سے ایسی ضربیں لگائی جائیں، جس طرح وہ مزاحمتی بلاک کو مارتے رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اگر طوفان الاقصیٰ نہ ہوتا تو مزاحمتی محور کو  انجانے میں پوری طرح سے دھچکا لگا ہوتا اور پچھلے دو سالوں میں جتنا نقصان ہوا ہے، اس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لڑائی جاری ہے اور مزاحمتی محور ابھی تک صیہونی حکومت کے ساتھ  لڑائی میں مصروف ہے۔ مزاحمتی تحریک نے صیہونی حکومت کو ایک لمحہ کے لئے بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت کے ساتھ آپریشن طوفان الاقصی مزاحمتی محور اور مزاحمتی سے زیادہ حزب اللہ یہ ہے کہ اس بات کو ایک ہے اور کے بعد کے لیے کی طرف

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی