پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں مسلم لیگ (ن)، خصوصا وزیراعلی پنجاب مریم نواز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو "احسان فراموش، شعبدہ باز اور جمہوریت دشمن قرار دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے چیف کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین، سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، ڈسٹرکٹ جنرل سیکریٹری بہاولنگر رانا محمد انتظار اور ملتان سے ڈسٹرکٹ جنرل سیکریٹری راو ساجد علی نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید، صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے جانثار کارکن ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ہیں۔ چاہے جنرل ضیا کا مارشل لا ہو یا مشرف کی آمریت، ہم نے سر نہیں جھکایا۔ آج بھی اگر ہمیں انگلیاں توڑنے یا ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں تو یاد رکھیں کہ پیپلزپارٹی جھکنے والوں میں سے نہیں ہے۔ پی پی قیادت کا کہنا تھا کہ موجودہ پنجاب حکومت صرف نعروں، اشتہاروں اور سیاسی ڈرامے بازی میں مصروف ہے۔ مریم نواز اور ان کے ساتھی 90 کی دہائی کی انتقامی سیاست دوبارہ زندہ کرنے کے درپے ہیں، جو نہ صرف افسوسناک بلکہ جمہوریت کے لیے خطرناک بھی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹوں کی سیکیورٹی واپس لینا سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا تو اس کی مکمل ذمہ داری موجودہ پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی شدید کمی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا موسم سرما آ چکا ہے اور ہزاروں سیلاب متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نہ خوراک ہے، نہ طبی سہولیات، نہ پینے کا صاف پانی۔ جانور بیمار ہو رہے ہیں، بچے بیمار پڑ چکے ہیں، اور حکومت سب اچھا کی رپورٹ پیش کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور