WE News:
2026-06-03@01:09:17 GMT

رواں برس شدید سردی کا امکان، اس بار کون سا سسٹم آرہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

رواں برس شدید سردی کا امکان، اس بار کون سا سسٹم آرہا ہے؟

گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ رواں موسم سرما پاکستان اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں غیر معمولی طور پر شدید سردی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس خبر کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ اس سردی کے دوران پچھلے ریکارڈز بھی ٹوٹ سکتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ بحرالکاہل کے پانیوں میں لا نینا کا فینامینا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس خبر کو شئیر کرتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ جس قدر گرمی دیکھی گئی ہے، اب اس شدت کی سردی کے لیے تیار ہو جائیں۔ موسم گرما ہی صرف موسمیاتی تبدیلیاں نہیں لایا، اب سردی میں بی موسم کی شدید تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: شدید بارشیں اور سیلاب: کلاؤڈ برسٹ، موسمیاتی تبدیلی یا ناقص منصوبہ بندی؟

اس حوالے سے ’وی نیوز‘ نے موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین سے بات کی، اور اس حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کی۔

لا نینا کیا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے موسمیاتی تغیرات کے ماہر ڈاکٹر غلام رسول نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ لا نینا دراصل ایک موسمیاتی رجحان ہے، جو بحرالکاہل کے پانی کے ٹھنڈا ہونے سے ہوتا ہے۔ جب سمندر کا پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، تو یہ دنیا بھر کے موسم کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح جب پانی معمول سے زیادہ گرم ہوتا ہے تو اسے ایل نینو کہتے ہیں۔

لا نینا کیسے ہوتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ لا نینا اس وقت ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں پانی کا درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری کم ہو جاتا ہے۔ اس دوران تیز ہوائیں جنہیں ٹریڈ ونڈز کہتے ہیں، گرم پانی کو مغرب کی طرف دھکیلتی ہیں۔ اس سے سمندر کی گہرائی سے ٹھنڈا پانی اوپر آتا ہے، جسے ’اپ ویلنگ‘ کہتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا پانی ہوا اور دباؤ کے نظام کو بدل دیتا ہے، جو موسم پر اثر ڈالتا ہے۔

دنیا پر لا نینا کے اثرات

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق لا نینا مختلف علاقوں میں موسم کو الگ الگ طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ پاکستان اور ایشیا میں لا نینا کی وجہ سے مون سون کی بارشیں زیادہ ہوتی ہیں، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور آسٹریلیا میں بھی زیادہ بارش اور سیلاب ہو سکتے ہیں۔

’شمالی امریکا کے کچھ حصوں جیسے کینیڈا اور الاسکا میں سردی اور بارش بڑھتی ہے، جبکہ جنوبی امریکا کے ممالک جیسے پیرو میں خشک سالی ہو سکتی ہے۔ افریقہ میں مشرقی حصوں میں زیادہ بارش ہوتی ہے، جبکہ جنوبی افریقہ خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔‘

لا نینا کب اور کتنی دیر رہتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ لا نینا ہر 3 سے 7 سال بعد ہو سکتا ہے اور عام طور پر چند ماہ سے ایک سال تک جاری رہتا ہے۔ اس کا اثر موسم کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، لیکن یہ دنیا بھر میں موسم کے انداز کو بدل دیتا ہے۔

کیا واقعی رواں برس شدید سردی پڑنے والی ہے؟

ڈاکٹر غلام رسول نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے حوالے سے بتایا کہ موسم سے متعلق حالیہ پیشگوئیوں میں کہا جا رہا ہے کہ رواں سال سخت سردی پڑنے والی ہے اور ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ دور گلوبل وارمنگ کا ہے، اس لیے درجہ حرارت ماضی جیسا انتہائی کم ہونے کا امکان نہیں۔ البتہ اس سال بارشوں میں کمی کا رجحان نمایاں رہے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لانینا کے اثرات کے باعث پاکستان میں سردیوں کی بارشیں معمول سے کم ہوں گی۔ اس کمی کے نتیجے میں خشک سردی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ خشک سردی عام طور پر زیادہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ بارش کے دنوں میں بادل رات کے وقت زمین کی حرارت کو روک لیتے ہیں، جس سے راتیں نسبتاً گرم رہتی ہیں۔

ان کے مطابق جب آسمان صاف ہو اور بادل نہ ہوں، تو دن کے وقت دھوپ کی شدت کم اور رات کے وقت درجہ حرارت تیزی سے گر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خشک سردی زیادہ سخت محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ رواں موسمِ سرما میں بارشیں کم اور خشک سردی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یعنی دن میں ہلکی دھوپ اور راتوں میں شدید ٹھنڈ کا امکان ہے۔

موسم کا بدلتا مزاج اب صرف ایک قدرتی مظہر نہیں رہا، محمد توحید

موسمی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والے ماہر شہری منصوبہ بندی محمد توحید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موسم کا بدلتا مزاج اب صرف ایک قدرتی مظہر نہیں رہا، یہ ہمارے شہری منصوبہ بندی کے فیصلوں کی خامیوں کو بھی عیاں کر رہا ہے۔

’اس سال ’لا نینا‘ پیٹرن کی واپسی کی خبریں گردش میں ہیں، جس کا مطلب ہے بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں کمی، یہ کمی دنیا کے موسموں کو بدل دیتی ہے۔ کہیں بارشیں بڑھتی ہیں، کہیں خشک سالی آتی ہے، اور ہمارے خطے میں اکثر اس کے اثرات سردیوں کی شدت کی صورت میں محسوس ہوتے ہیں۔‘

اگر ماہرینِ موسمیات کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو اس بار کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں نیچے جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے شہر اس سردی کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم نے غیر رسمی بستیوں، خستہ حال مکانات اور بے گھروں کے لیے کوئی حکمتِ عملی تیار کی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک ذمہ دار ریاستوں سے ہرجانے کے حقدار ہیں، عالمی عدالت انصاف کا اہم فیصلہ

’لا نینا‘ صرف ایک موسمی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک تنبیہ ہے کہ جب قدرت کا توازن بگڑتا ہے، تو سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑتا ہے جن کے پاس گرم کپڑا، پختہ چھت یا مستحکم نظامِ زندگی نہیں۔ شہری منصوبہ بندی کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب موسم سخت ہو اور شہر کے لوگ محفوظ رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews خشک سردی موسم سرما موسمیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلیاں وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلیاں وی نیوز موسمیاتی تبدیلی بحرالکاہل کے اس حوالے سے بتایا کہ لا معمول سے انہوں نے کا امکان سکتا ہے جاتا ہے سردی کے ہوتا ہے لا نینا رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی