جرمنی میں نومنتخب میئر پر چاقو سے حملہ، شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی کے شمال مغربی علاقے میں ایک نومنتخب خاتون میئر پر چاقو سے حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں، پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرس اسٹالزر (Iris Stalzer) جو حال ہی میں ہیرڈکے (Herdecke) شہر کی میئر منتخب ہوئی تھیں، ان کے گھر کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایرس اسٹالزر کو شدید زخمی حالت میں ان کے گھر کے اندر پایا گیا، حملے کے بعد وہ زخمی حالت میں خود کو گھسیٹتے ہوئے گھر کے اندر لانے میں کامیاب ہوئیں، جہاں سے پولیس اور امدادی ٹیموں کو اطلاع دی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور ان کی تلاش جاری ہے، ابھی تک حملے کی وجوہات یا اس کے پسِ منظر کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
عوامی نشریاتی ادارے این ڈی آر (NDR) کے مطابق پولیس یہ جانچ کر رہی ہے کہ آیا واقعہ کے پیچھے کوئی سیاسی محرک موجود تھا یا یہ کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔
خیال رہےکہ ایرس اسٹالزر جو سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) سے تعلق رکھتی ہیں،یہ گزشتہ ماہ کے آخر میں ہیرڈکے کی میئر منتخب ہوئی تھیں، ان کی کامیابی کو مقامی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے طور پر سراہا گیا تھا۔
حکام نے بتایا ہے کہ میئر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت بہتر ہے، پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے واقعے کے وقت کچھ مشتبہ دیکھا ہو تو فوری طور پر اطلاع دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔