پارکس کے کمرشل استعمال پر جماعت اسلامی کی درخواست پر میئر کراچی سمیت دیگر عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے پارکوں کے کمرشل استعمال سے متعلق جماعت اسلامی کی جانب سے مئیر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر میئر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے کو 21 اکتوبر کو طلب کرلیا۔
ہائیکورٹ میں پارکوں کے کمرشل استعمال سے متعلق جماعت اسلامی کی جانب سے مئیر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عدالت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدوں کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ مرتضیٰ وہاب نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارکوں پر کمرشل سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میئر کراچی نے رفاہی پلاٹوں کو اب تک واگزار نہیں کروایا۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ میئر کراچی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
عدالت نے میئر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے کو 21 اکتوبر کو طلب کرلیا۔
اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل اور 9 ٹاون چیئرمین کی آئینی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ ماہ تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: توہین عدالت میئر کراچی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔