کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے پارکوں کے کمرشل استعمال سے متعلق جماعت اسلامی کی جانب سے مئیر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر میئر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے کو 21 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

ہائیکورٹ میں پارکوں کے کمرشل استعمال سے متعلق جماعت اسلامی کی جانب سے مئیر کراچی و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عدالت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدوں کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ مرتضیٰ وہاب نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارکوں پر کمرشل سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میئر کراچی نے رفاہی پلاٹوں کو اب تک واگزار نہیں کروایا۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ میئر کراچی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

عدالت نے میئر کراچی، ڈائریکٹر پارکس اور ڈی جی کے ڈی اے کو 21 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل اور 9 ٹاون چیئرمین کی آئینی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ ماہ تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: توہین عدالت میئر کراچی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی