2مقدمات میں شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-08-14
لاہور (صباح نیوز) جناح ہائوس حملہ اور عسکری ٹاور جلائو گھیرائو مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت میں 31 اکتوبر تک توسیع ہوگئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے سماعت کی،شاہ محمود قریشی کے جیل وارنٹ پیپرز عدالت میں پیش کیے گئے، شاہ محمود قریشی نے جناح ہائوس حملہ اور عسکری ٹاور حملہ کیسز میں عبوری ضمانت دائر کر رکھی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عبوری ضمانت پر وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔ شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانتیں گرفتاری کے باعث خارج ہوگئی تھیں جو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر بحال ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں